BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 January, 2006, 04:11 GMT 09:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک مکمل بلے باز، راہول ڈراوڈ

 ڈراوڈ
ڈراوڈ کی بیٹنگ کو مبصرین پرانی کرکٹ کے کلاسیکی انداز اور جدید کرکٹ کے پیشہ وارانہ انداز کا مجموعہ قرار دیتے ہیں
سورو گنگولی کی آسٹریلین کوچ گریک چیپل سے ان بن اور خود گنگولی کی اپنی فارم ان کے لیے تو ظاہر ہے کہ بہت منحوس ثابت ہوئی لیکن اس کا فائدہ راہول ڈراوڈ کو ضرور ہوا جو دنیائے کرکٹ کی ایک بڑی اور مقبول ٹیم کے کپتان بنا دیے گیے۔

راہول ڈراوڈ نے حقیقی معنوں میں خود کو اس فیصلے کا اہل ثابت کیا اور ان کی کپتانی میں بھارتی ٹیم نے سری لنکا کو بدترین شکست سے دوچار کیا۔

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے راہول ڈراوڈ نہ صرف اپنے ملک میں مقبول ہیں بلکہ کرکٹ کھیلنے والے دوسرے ممالک کے کرکٹ شائقین بھی ان کی شخصیت اور کھیل کے دلداہ ہیں۔

راہول ڈراوڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی بیٹنگ تکنیک بے مثال ہے۔ ڈراوڈ کا سنہری دور اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے کلکتہ میں سنہ 2001 میں آسٹریلیا کے خلاف ایک سو اسی رنز سکور کیے اور تب سے وہ بھارت کے اہم ترین کھلاڑی بن گئے۔

سنہ 2004 میں آئی سی سی کے سال کے بہترین کھلاڑی اور بہترین ٹیسٹ پلیئر کا اعزاز حاصل کرنے والے راہول ڈراوڈ کی پاکستان میں جنوری۔ فروری 2006 میں ہونےوالی کرکٹ سیریز اپنے ملک سے باہر بطور کپتان پہلی سیریز ہوگی۔

ٹیسٹ میچز میں بیس سنچریاں اور انتالیس نصف سنچریاں بنانے والے راہول ڈراوڈ کی کپتانی میں بھارتی ٹیم نے سری لنکا کو ٹیسٹ سیریز میں 0-2 سے اور سات ایک روزہ میچز کی سیریز میں 1- 6 سے ہرایا ہے۔

تینتیس برس کے راہول ڈراوڈ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پیدا ہوئے۔ وہ کرناٹکا کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں۔ بھارت کے لیے تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ڈراوڈ نے کئی بار اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکالنے کے لیے شاندار اننگز کھیلی ہیں۔

ان کی شاندار ڈبل سنچریوں کی بدولت بھارتی ٹیم نے آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں فتح حاصل کی اور راولپنڈی میں سنہ 2004 میں ڈراوڈ کے دو سو ستر رنز کی وجہ سے نہ صرف بھارت نے راولپنڈی ٹیسٹ جیتا بلکہ پاکستان کے خلاف سیریز میں بھی فتح حاصل کی۔

چورانوے ٹیسٹ میچز میں ستاون کی اوسط سے 8003 رنز بنانے والے راہول ڈراوڈ کی بیٹنگ کو مبصرین کرکٹ نے پرانی کرکٹ کے کلاسیکی انداز اور جدید کرکٹ کے پیشہ وارانہ انداز کا مجموعہ قرار دیا ہے۔

دو سو پچھتر ایک روزہ میچوں میں چالیس کی اوسط سے 8843 رن سکور کرنے والے راہول ڈراوڈ کی نہ صرف کور ڈرائیو دیکھنے والے کو مسحور کر دیتی ہے بلکہ اس کلاسیکل سٹروک پلیئر کی ہر شاٹ قابل دید ہوتی ہے۔

راہول ڈراوڈ نے کئی بار بھارتی ٹیم کے وکٹ کیپرکا کردار بھی بخوبی نبھایا ہے۔

راہول ڈراوڈ کی کپتانی میں بھارتی ٹیم پاکستان میں تین ٹیسٹ اورپانچ ایک روزہ کھیلنے آئی ہے۔ ان کی کپتانی اور بیٹنگ اس دورے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے یہ تو سیریز شروع ہونے کے بعد ہی معلوم ہو گا البتہ اس دورے کے لیے ان کی امیدیں بلند ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ایک متحد ٹیم بن کر میدان میں اتریں گے۔

اسی بارے میں
سچن کی جگہ راہول دیوتا
21 December, 2003 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد