اسلامی کھیل اور ججاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب میں اسلامی کھیلوں کو کوریج کرنے کے لیے تہران پہنچی تو ایک دفعہ تو ایسے لگا جیسے یہاں تو وقت کا ضائع کرنے آئی ہوں۔ برطانیہ کی مسلمان خواتین کی فٹ بال ٹیم اور عراقی ٹیم کے مابین ہونے والا میچ دیکھنے کے لیے جب میں تہران میں واقع سٹیڈیم پہنچی تو ایک چھوٹے سے قد کی خاتون نے جس نے کالے رنگ کا حجاب پہن رکھا تھا میرا راستہ روک لیا۔ ججاب پہنے یہ خاتون سکیورٹی گارڈ اس بات میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھی کہ ہم کوئی کیمرہ لے کر سٹیڈیم میں نہ چلے جائیں کیونکہ ایران میں خواتین کھلاڑیوں کی تصویر لینا جرم ہے۔ جب ہم نے بیگ اور جیبیں خالی کرکے دکھائیں تو اس کو یقین ہو گیا کہ ہم کیمرہ کے بغیر ہیں اور اس سکیورٹی گارڈ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور اس نے ہمیں اندر جانے دیا۔ اس سٹیڈیم میں کسی مرد کو جانے کی اجازت نہیں ہے جس کا مطلب یہ کہ یہاں خواتین کھلاڑی حجاب کے بغیر میچ کھیل سکتی ہیں۔ سٹیڈیم کے اندر جانے کے بعد کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم اسلامی ریاست کے کسی سٹیڈیم میں موجود ہیں۔ ہر طرف خواتین، بغیر دوپٹوں اور ججاب کے بغیر جازب نظر لباس میں ملبوس نظر آتی ہیں۔ جب میں پریس گیلری میں پہنچی تو وہاں صرف ایک خاتون صحافی نظر آئی جو وہاں بیٹھے اپنے بال سنوار رہی تھی۔ اس خاتون صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ برطانیہ نے اتنی کمزور ٹیم ٹورنامنٹ میں کیوں بھیجی ہے۔ میں نے صحافی کو بتایا کہ برطانیہ کی نمائندگی کرنے والی مسلمان لڑکیوں کی ٹیم ہفتہ میں صرف ایک دفعہ پریکٹس کرتی ہے اور ان میں کوئی بھی برطانیہ کی خواتین کی ٹیم میں شامل نہیں رہی ہے۔ میچ جب شروع ہوا تو پہلے منٹ میں اس کا اندازہ ہو گیا کہ برطانیہ کی مسلمان فٹ بال ٹیم کی طاقت کا اندازہ ہو گیا اور عراق نے پہلے ہی منٹ میں گول کر دیا۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ برطانیہ کی مسلمان خواتین ٹیم اس میچ میں عراق کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے تو میں نے دوسری چیزوں پر توجہ دینی شروع کی اور ایران کی فٹ بال کی ٹیم کے ممبران کے ساتھ بات چیت شروع کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فٹ بال کے بارے میں کتنی دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان میں شیریں کا کہنا تھا کہ وہ لیور پول کے لیے کھیلنا چاہتی ہیں جب کہ اس کو دوسری دوست اسے ڈانٹے ہوئے کہا آپ آرسینل کیوں نہیں کہتی ہو۔ پیچھے سے ’چیلسی‘ اور آرسینل کی آوازیں سنائی دیں۔ | اسی بارے میں اسلامک گیمز کے لیے پاکستانی ٹیم16 July, 2005 | کھیل پاکستان:خواتین کے پہلے فٹبال مقابلے11 September, 2005 | کھیل پاکستانی خواتین ورلڈ سنوکر میں13 September, 2005 | کھیل پہلی وومن فٹ بال چیمپئن شپ27 September, 2005 | کھیل سٹیڈیم میں خواتین کےلیے انکلوژر23 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||