اسلامک گیمز کے لیے پاکستانی ٹیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائیس سے اٹھائیس ستمبر تک ایران کے شہر تہران میں ہونے والی خواتین کی اسلامک گیمز میں شرکت کے لیے پندرہ خواتین کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ پندرہ اور سولہ جولائی کو پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں ہونے والے ٹرائلز کے بعد جن پندرہ تیراک خواتین کے ناموں کا اعلان کیا گیا ان میں اولمپک گیمز میں پاکستان کی جانب سے پہلی خاتون تیراک کا اعزاز حاصل کرنے والی رباب رضا بھی شامل ہیں۔ پاکستان سوئمنگ فیڈریشن نے ان خواتین کی تربیت کے لیے چینی کوچ لوئی چی ین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ لوئی چی ین تقریباّ ایک ماہ سے اسلام آباد میں ان لڑکیوں کی تربیت کر رہی ہیں۔ پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کے وومین ونگ کی صدر فاطمہ لاکھانی کے بقول یہ کوچ ایک سال تک ان لڑکیوں کی تربیت کریں گی اور یہ تربیت صرف اسلامک گیمز ہی کے لیے نہیں بلکہ سری لنکا میں ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے بھی ہو گی۔ فاطمہ لاکھانی نے بتایا کہ گزشتہ وومین اسلامک گیمز میں ہماری تیراک خواتین نے ایج گروپ اور اوپن کیٹیگری میں کل ملا کر اڑتالیس تمغے حاصل کیے تھے۔ تاہم وہ اسلامک گیمز گیارہ ستمبر 2001 کے واقعہ کے بعد ہوئی تھیں اس لیے ان میں اکثر ممالک نے شرکت نہیں کی تھی۔ فاطمہ لاکھانی نے کہا کہ اس بار ہم ایسے نتائج کی توقع نہیں کر سکتے کیونکہ اس بار انڈونیشیا اور ملائشیا کی بھی تیراک ہوں گی ان کا معیار ہم سے بہت بہتر ہے۔ فاطمہ لاکھانی نے کہا کہ یہ تیراک لڑکیاں وومین اسلامک گیمز میں اپنا نیشنل ریکارڈ بہتر کرنے کی کوشش کریں گی۔ اسلامک گیمز کے لیے منتخب ہونے والی ان خواتین میں سے تین خواتین رباب رضا، کرن خان اور ثناء واحد چوبیس جولائی سے مانٹریال میں ہونے والی ورلڈ سوئمنگ چمپئن شپ میں بھی شرکت کر رہی ہیں۔ چوتھی اسلامک گیمز میں شرکت کرنے والی پندرہ خواتین کے نام ہیں: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||