ہاکی کپتان کو فیصلہ نا منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد ثقلین نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے ایک عدالتی کمیشن کے فیصلے کے خلاف انٹرنیشنل المپک کونسل کے آربیٹریشن کمیشن کے سامنے اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف آئی ایچ کے عدالتی کمیشن نے محمد ثقلین پر تین بین الاقوامی میچز کھیلنے کی پابندی اور ایک ہزار یورو کے جرمانے کی سزا عائد کی تھی۔ محمد ثقلین جو کہ اس وقت پاکستان کی ہاکی ٹیم کے ہمراہ بھارت چمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں ان کے وکیل مصطفی رمدے اورپاکستان ہاکی فیڈریشن کے سکریٹری برگیڈئر مسرت اللہ نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں ثقلین کے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ برگیڈئر ریٹائرڈ مسرت اللہ نے بتایا کہ ثقلین کی اپیل کوریر سروس کے ذریعے پیر کے روز روانہ کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ جونہی آئی او سی کا آربیٹریشن کمشن یہ اپیل منظور کرے گا ثقلین کی سزا معطل ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں ثقلین چمپئنز ٹرافی کے پہلے تین میچ جو کہ آسٹریلیا، ہالینڈ اور سپین کے خلاف ہیں کھیل سکیں گے۔ ثقلین کے وکیل مصطفی رمدے جنہوں نے ایف آئی ایچ کے عدالتی کمیشن کے سامنے بھی ثقلین کا مقدمہ لڑا تھا کا کہنا تھا ان کے پاس ایسے قانونی اور واقعاتی شواہد ہیں جو کسی بھی ایسے فورم کے سامنے رکھے جائیں جو غیر متعصب اور غیر جانبدار ہو تو ثقلین کے حق میں فیصلے کے بہت قوی امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئی او سی کے سامنے اس بنیاد پر پیش ہوں گے کہ ثقلین کے کیس میں
اس پریس کانفرنس میں ثقلین کے وکیل مصطفی رمدے نے اس میچ کی ویڈیو بھی دکھائی جس میں ثقلین پر آسٹریلوی کھلاڑی کریگ وکٹری کو ہاکی مارنے کا الزام ٹیکنکل ڈائریکٹر رینو کی جانب سےعائد کیا گیا۔ ویڈیو فلم کے مطابق کریگ وکٹری غلط سائیڈ سے ثقلین کو ٹیکل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس وقت ثقلین کی نظریں گیند پر تھیں اور وہ پیچھے سے آنے والے کھلاڑی کو نہیں دیکھ سکتے تھےاور یہی وجہ تھی کہ میدان میں موجود ایمپائرز نے ثقلین کے حق میں فاؤل دیا تھا۔ مصطفی رمدے کے بقول یہ ویڈیو فلم وہی ہے جو آسٹریلیا نے اس واقعے کے ثبوت کے طور پر پیش کی۔ اس کیس کی پیروی پر اٹھنے والے تمام اخراجات پاکستان ہاکی فیڈریشن برداشت کر رہی ہے اور اس ضمن میں برگیڈیر مسرت اللہ کا کہنا ہے کہ وہ سچ کا ساتھ دے رہے ہیں اور وہ ثقلین کو اس کیس میں بے گناہ مانتے ہیں۔ برگیڈیر مسرت اللہ نے مزید کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے پاکستان کے کھلاڑیوں کے خلاف ایسے تین الزامات لگائے گئے جو کہ میچ ختم ہونے کے بعد ٹیکنکل بینچ کی جانب سے عائد کیے گئے جبکہ میچ کے دوران دونوں ایمپائرز نے پاکستانی کھلاڑیوں کے کوئی کارڈ وغیرہ بھی نہیں دکھایا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سکریٹری کا کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایف آئی ایچ کے ایلیٹ پینل کے یہ ایمپائر نا اہل ہیں؟ برگیڈیر مسرت اللہ نے واضح کیا کہ اگر چہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ثقلین کی اخلاقی طور پر حمایت کرتی ہے تاہم یہ اپیل ثقلین خود اپنے خلاف ہونے والے فیصلے پر دائر کر رہے ہیں | اسی بارے میں پاکستانی کپتان پر پابندی01 December, 2005 | کھیل رویہ بہتر رکھوں گا: محمد ثقلین28 August, 2005 | کھیل ثقلین پاکستانی ہاکی ٹیم کے نئے کپتان08 May, 2005 | کھیل ہاکی میں شائقین کی عدم دلچسپی17 September, 2005 | کھیل ہاکی: پاکستان نے فائنل جیت لیا22 August, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||