BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 December, 2005, 23:20 GMT 04:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شکست بیٹسمینوں کی وجہ سے ہوئی‘

 وان
انگلینڈ نے بعض بیٹمینوں نے غیر درانہ شاٹ کھیل کر ٹیم کو مشکلات سے دوچار کیا۔
پاکستان کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں دو صفر سے شکست میں سب سے زیادہ ہاتھ انگلش بیٹسمینوں کا ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم کو ملتان ٹیسٹ میچ جیتنا چاہیے تھا لیکن فیصل آباد میں انگلینڈ ہار سکتا تھا۔ لاہور میں انگلینڈ کی بیٹنگ دو دفعہ ایسے مواقع پر ناکام ہوئی جب وہ اچھا سکور کرنے کی پوزیشن میں تھی۔

میں نے پہلے بھی کہا ہے اور پھر کہوں گا کہ انگلینڈ نے اس ٹیسٹ سیریز کے لیے مناسب تیاری نہیں کی تھی۔ موجودہ زمانے کے کوچ اور کھلاڑی ٹیسٹ سیریز سے پہلے سائیڈ میچوں کے حق میں نہیں ہیں لیکن میرے خیال میں ٹیسٹ سیریز سے پہلے زیادہ سائیڈ میچوں ہونے چاہیں۔

ملتان میں ٹیسٹ سے پہلے انگلینڈ نے صرف دو میچ کھیلے تھے جس کی وجہ سے بیٹسمینوں کو فارم میں آنے کا موقع نہیں ملا۔موجودہ دور میں اگر بیٹسمین ٹیسٹ سیریز کے شروع میں فارم میں نہیں ہے تو سیریز کےدوران اس کا فارم میں آنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ ٹیسٹ میچوں میں صرف چند دنوں کا وقفہ ہوتا ہے۔

انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے اپنی غیر ضروری جارحانہ بیٹنگ سے اپنے لیے مسائل کھڑے کیے اور انہوں نے ہر مواقع پر صبر کا مظاہرہ نہیں کیا۔

انگلینڈ کے بعض بیٹمیسن ہر حال میں تیز کھیلنا چاہتے ہیں جو ہر دفعہ ممکن نہیں ہوتا اور ایسے وقت جب بولر اچھی بولنگ کر رہے ہوں تو آپ کو وکٹ پر ٹہرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انگلینڈ کے کوچ ڈنکن فلیچر اور انگلش کھلاڑیوں کا کہنا ہےکہ جنوبی افریقہ کے دورہ کے دوران بھی ٹیسٹ میچ سے پہلے انہوں نے صرف دو سائیڈ میچ کھیلے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے ٹیسٹ سیریز جیت لی تھی۔

جنوبی افریقہ اور پاکستان کی پچوں میں واضح فرق ہے ۔جنوبی افریقہ کی پچوں پر انگلینڈ کے تیز بولروں کو بیسمینوں پر حاوی ہونے کا موقع ہاتھجبکہ پاکستان اور ہندوستان کی پچوں پر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔پاکستان اور بھارت میں بیٹسمینوں کو اچھے سکور کر کے بولروں کی مدد کرنی ہوتی ہے۔

انگلینڈ نے تین اور کئی دفعہ ٹیم میں چار فاسٹ بولروں کو شامل کر کے میچ جیتے رہے ہیں لیکن پاکستان کے دورے کے دوران جس چیز کی کمی محسوس کی گئی وہ ایک اچھے سپنر کی تھی۔

پاکستان کی وکٹوں کو دیکھتے ہوئے انگلش تیز بولروں کی کارکردگی بری نہیں تھی لیکن بیٹسمینوں کی خراب کارکردگی نے ان کی محنتوں پر پانی پھیر دیا۔

انگلش بیٹسمینوں نے اگر اب بھی سبق نہ سیکھا تو ان کے یہ ہی حشر بھارت میں ہو سکتا ہے جہاں پاکستان کے دورے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم کو جانا ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم گھر میں یا پھر ایسے ملک میں جہاں وکٹیں تیز گیند کرنے والوں کے لیے موافق ہوں اچھی کارکردگی کا مظاہرے کرتے ہیں۔ اپنی طرز کی وکٹوں پر کھیل کر کامیابی حاصل کرنے سے آپ اچھی ٹیم نہیں کہلا سکتے اور اگر انگلینڈ کو اپنے آپکو منوانا ہے تو پھر اسے ہر قسم کی وکٹوں پر اچھا کھیل پیش کرنا ہو گا۔

انگلینڈ کی بیٹنگ بس درمیانی سی ہے جبکہ اس کے سپنر انتہائی واجبی ہیں۔انگلینڈ کی ٹیم اس وقت ایسے کھلاڑیوں کی بہتات ہے جو غلط شاٹ کھیل اپنی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔

اگر انگلینڈ کو اچھی ٹیم کے طور پر منوانا ہے تو اسے ایسے بیٹسمینوں کی ضرروت ہے جو ذمہ داری سے کھیل سکیں اور اپنے آپ کو مختلف حالات میں ڈھال سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد