فلنٹاف چوتھے دن کے مرد میدان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنی تمام تر متنازعہ باتوں کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ پاک انگلستان سیریز میں اب تک بہت ہی دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ بات پہلے بھی کہی گئی تھی کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مہمان اور میزبان دونوں یہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اور اس میں انفرادی کارکردگی کی حیثیت ثانوی ہے۔ فیصل آباد ٹیسٹ کے چوتھے روز بھی کچھ یہی صورت رہی۔ کس ایک کھلاڑی کی کارکردگی بہتر رہی اس کا فیصلہ کرنا انتہائی دشوار ثابت ہوا۔ پہلے شاہد آفریدی نے اچھی بالنگ کا مظاہرہ کیا اور اس کے بعد انگلستان کے آخری بلے بازوں نے پاکستانی بالنگ کا اچھا جواب دیا۔ پچھلی تینوں اننگز کی طرح بدھ کے روز بھی پاکستان کی آغاز اچھا خاصا تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ دونوں اوپنروں میں سے کوئی ہمارا آج کا کھلاڑی قرار پاتا پہلے شعیب ملک اور پھر سلمان بٹ آدھے رستے سے ہی پویلین واپس لوٹ آئے۔ ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے درمیان ایک وکٹ گری جو کہ بدقسمت یونس خان کی تھی۔ انھیں دنیا کے سب سے مانے ہوئے امپائر سائمن ٹوفل نے ایک بی ڈبلیو قرار دیا جبکہ بال یقیناً لیگ سٹمپ سے باہر جا رہی تھی۔ ہمارے خیال میں سلمان بٹ بھی ناٹ آؤٹ تھے مگر ان کے کیس میں دنیا کے سب سے سخت امپائر ڈیرل ہیئر کا خیال مختلف تھا۔ ایسا اکثر ہو جاتا ہے مگر اس ٹیسٹ میں نامعلوم کیوں ایسا کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے۔ کھیل سے پہلے انگلستان سے آئے تبصرہ نگاروں کی رائے تھی کہ اقبال سٹیڈیم میں کھلاڑیوں کو کبھی کبھار گیند ڈھونڈنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ چار روز کے کھیل میں ہوئے مختلف واقعات کو دیکھتے ہوئے یہ لگتا ہے کہ آسٹریلیا سے آئے ہوئے ان دو امپائروں کو بھی بال کا تعاقب کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان دونوں امپائروں کی لیاقت پر کسی کو شبہ نہیں مگر اس ٹیسٹ میں کئی ایک ایسے فیصلے ہوئے ہیں جن کی امید سائمن ٹوفل یا ڈیرل ہیئر سے نہیں کی جا سکتی۔ آخر میں یہ بات کہنا ہو گی کہ امپائرنگ بے شک بُری ہوئی ہے مگر جہاں پاکستان کو اس وجہ سے کئی موقعوں پر نقصان اٹھانا پڑا ہے، ایک دو بار اسے امپائروں کے غلط فیصلوں کا فائدہ بھی ہوا ہے۔ پہلی اننگز میں محمد یوسف ایل بی ڈبلیو ہوتے ہوتے بال بال بچے اور دوسری اننگز میں سائمن ٹوفل نے انضمام کو اس وقت شک کا فائدہ دیا جب وہ پاکستان کپتان کو آؤٹ بھی دے سکتے تھے۔ انضمام اس اپیل کے بعد پہلے سے بھی زیادہ احتیاط سے کھیلے اور ان کی کریز پر موجودگی ہی یہ امید دلاتی ہے کہ پاکستان یہ میچ بچا سکتا ہے۔ بدھ کے روز سلمان بٹ نے نصف سینچری سکور کی مگر وہ بہت سست کھیلے۔ اُن کے علاوہ دوسرے پاکستانی بلے بازوں کی سست رفتاری نے بھی میچ میں انگلستان کی واپسی کا راستہ صاف کیا۔ مائیکل وان کی ٹیم اب پوری طرح سے میچ میں ہے۔ مگر آخری روز کے کھیل میں انضمام کے علاوہ موسم بھی انگلستان کے آڑے آ سکتا ہے۔ سریز کے شروع میں انضمام نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ چھوٹے دنوں کا سیریز پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔ اب شاید وہ امید کر رہے ہوں گے کہ جمعرات کے ایک بڑے دن موسم ان کی ٹیم کا ساتھ دے۔ انگلستان نے بدھ کو بھی اپنا پورا زور لگایا۔ ہارمیسن، ہوگرڈ نے مختلف ترکیبوں سے پاکستانی بلے بازوں کے قدم اکھاڑنے کی کوشش کی۔ سب سے زیادہ جان ایک بار پھر فریڈی فلنٹاف نے ماری اور جہاں وہ دو پاکستانی بلے باز اپنے خلاف ہوئی ایل بی ڈبلیو کی اپیلوں کے معاملے میں بدقسمت رہے، وہاں فلنٹاف بھی انضمام کو آؤٹ کرنے سے شاید بال برابر دور رہ گئے۔ سلمان بٹ کے ساتھ فلنٹاف بدھ کے کھیل کے سب سے اہم کھلاڑی تھے اور اگر خوبصورتی کو مدنظر رکھا جائے تو فلنٹاف کو ہی فیصل آباد میچ کے چوتھے روز کا مردِ میدان کہا جانا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||