BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 October, 2005, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیت کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم

ستاون سالہ ڈنکن فلیچر پانچ سال سے انگلینڈ ٹیم کے کوچ کی ذمہ داری انتہائی مہارت سے نبھارہے ہیں
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈنکن فلیچر چاہتے ہیں کہ ان کے کھلاڑی جیت کے اسی سلسلے کو پاکستان کے خلاف بھی برقرار رکھیں جس نےانہیں اس وقت اپنے عروج پر پہنچا رکھا ہے۔

ستاون سالہ ڈنکن فلیچر نے جو پانچ سال سے انگلینڈ ٹیم کے کوچ کی ذمہ داری انتہائی مہارت سے نبھارہے ہیں کہتے ہیں کہ ایشیز کی حالیہ فتح کو ذہن سے نکالنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کارکردگی نے انگلش کرکٹرز کو خود اعتمادی دی ہے لیکن وہ نہیں چاہتے کہ وہ ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار ہوکر اپنے راستے سے ہٹ جائیں۔

انیس سو تراسی کے عالمی کپ میں زمبابوے کی قیادت کرتے ہوئے آسٹریلیا کو شکست سے دوچار کرنے والے ڈنکن فلیچر کا کہنا ہے کہ ہر دورہ مشکل ہوتا ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو پاکستان میں ہرانا مشکل ہوگا تاہم وہ چاہیں گے کہ پاکستان کے خلاف ان کی ٹیم جیت سے آغاز کرے۔

فلیچر کو یقین ہے کہ ان کے بیٹسمینوں کو دانش کنیریا اور مشتاق احمد کو اعتماد سے کھیلنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی کیونکہ وہ شین وارن کو کھیل کر یہاں آئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جائلز کی شکل میں ان کے پاس بھی موثر جواب موجود ہے۔

انگلش ٹیم میں شامل نئے کھلاڑیوں سے بھی فلیچر کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
فلیچر جن پر انگلش کرکٹ حکام نے ورلڈ کپ تک اعتماد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اپنے ہم منصب باب وولمر کے لئے مثبت خیالات رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک کوالٹی کوچ ہیں جن کے پاس تجربے کی دولت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد