BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 October, 2005, 03:21 GMT 08:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی نمبرایک بننے کی راہ پر

انگلینڈ کی ٹیم اسوقت عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہے
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مائیکل وان نے پاکستان کے خلاف ہونے والی سیریز کو دلچسپ لیکن سخت چیلنج قرار دیا ہے۔انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلنے پاکستان پہنچی ہے اور وہ پیر سے دورے کا آغاز پنڈی میں سہ روزہ میچ سے کرے گی۔

مائیکل وان نے جن کی قیادت میں انگلینڈ نے حالیہ ایشیز سیریز میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کی ہے پاکستان کے دورے میں کارکردگی کا وہی معیار برقرار رکھنے کے لئے پرامید ہیں جن کے ذریعے انہوں نے عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو زیر کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو دنیا کی بہترین ٹیم ثابت کرنا ہے تو اس کے لئے پاکستان اور بھارت کو انہی کی سرزمین پر شکست دینی ہوگی آپ کو اپنے میدانوں کے علاوہ ٹیموں کو ان کے میدانوں پر بھی ہرانا ہوگا۔ یقینا آسٹریلیا کو ہرانا پہلا قدم تھا لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم اسوقت عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہے اور پاکستان اور پھر اگلے سال بھارت کو ہرانے کی صورت میں وان کا عالمی نمبر ایک بننے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوجائے گا۔

انگریز کپتان نے جو پانچ سال قبل ناصر حسین کی قیادت میں پاکستان میں ٹیسٹ سیریزجیتنے والی ٹیم میں شامل تھے موجودہ ٹیم سے اس ٹیم کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ناصرحسین کی ٹیم تجربہ کار تھی جبکہ موجودد ٹیم نوجوان لیکن باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

ناصرحسین کی قیادت میں انگلینڈ نے کراچی ٹیسٹ کی جیت کے ذریعے پاکستان کے خلاف سیریز ایک صفر سے جیتی تھی۔

مائیکل وان نے مشتاق احمد اور دانش کنیریا کی لیگ اسپن کا مقابلہ کرنے کے بارے میں سوال پر کہا کہ ایک سال کے دوران انگلینڈ کی ٹیم اسپن کو اچھا کھیل رہی ہے اور پاکستانی بولرز کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے پاس موثر حکمت عملی ہے۔

مائیکل وان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سائمن جونز کی کمی یقینا محسوس ہوگی لیکن دوسرے بولرز بھی ریورس سوئنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر پاکستان کے پاس ریورس سوئنگ کرنے والے بولرز ہیں تو انگلینڈ کے پاس بھی اس کا جواب موجود ہے۔
مائیک وان کو اس دورے میں اینڈریو فلنٹوف سے کافی توقعات وابستہ ہیں جو ان کے بقول اس وقت دنیا کے بہترین آل راؤنڈر ہیں۔

انگلینڈ کے کپتان نے اپنی اس بات کو دوہرایا کہ وہ اس دورے سے زلزلے سے آئی ہوئی مایوسی کو مسکراہٹوں میں بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن جہاں تک بنیادی مقصد کا تعلق ہے تو وہ جیت ہے جس سے وہ غافل نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد