انگلینڈ کی ٹیم دورہ پاکستان پر روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل وان کی قیادت میں انگلینڈ کی سولہ رکنی کرکٹ ٹیم بدھ کی صبح پاکستان کے اٹھاون روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔ اس دورے کے دوران وہ تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل کے علاوہ دو سہ روزہ اور ایک محدود اوورز کا سائیڈ میچ کھیلے گی۔ انگلینڈ کی ٹیم اپنے دورے کا آغاز اکتیس اکتوبر سے دو نومبر تک پنڈی اسٹیڈیم میں پی سی بی پیٹرنز الیون کے خلاف سہ روزہ میچ سے کرے گی۔ سنہ 2000 کے بعد یہ انگلینڈ کی ٹیم کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ گزشتہ دورے میں اس نے ناصر حسین کی قیادت میں ٹیسٹ سیریز ایک صفر سے جیتی تھی۔ انگلینڈ کی ٹیم ایک ایسے وقت میں پاکستان آ رہی ہے جب زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد حالات معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈز نے بھی اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی کھلاڑی اینڈریو فلنٹاف اور سٹیو ہارمیسن بقیہ ٹیم کے ہمراہ پاکستان نہیں گئے ہیں اور وہ دنوں دبئی میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت کے بعد پاکستان پہنچیں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے امدادی فنڈ میں پانچ کروڑ روپے جمع کرائے ہیں اور پاکستانی کرکٹرز نے اپنی میچ فیس کا دس فیصد فنڈ میں مستقل جمع کراتے رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لاہور ون ڈے کی آمدنی بھی امدادی فنڈ میں دی جائے گی۔ انگلینڈ کے کرکٹروں کو زلزلے کے خوف سے زیادہ اپنی سکیورٹی کی فکر لاحق رہی ہے اسی لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلش ٹیم کی حفاظت کے لیے بے مثال انتظامات کیے ہیں۔ میدان سے باہر کی سرگرمیوں سے ہٹ کر فیلڈ میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ مائیکل وان کامیابیوں کے اپنے طویل سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان میں پاکستان کو ہرانے کی دیرینہ خواہش رکھتے ہیں جسے وہ عالمی نمبر ایک ٹیم بننے کی جانب پہلا قدم سمجھتے ہیں اور جس کی تکمیل وہ بھارت کو بھارت میں ہرانے کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ مائیکل وان کو اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے ٹریسکوتھک، اسٹراس، پیٹرسن، فلنٹاف،ہارمیسن اور جائلز جیسے میچ ونر کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہیں۔ خود وان بھی قابل بھروسہ بیٹسمین کی حیثیت سے کسی بھی بولنگ لائن کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد میدان میں اتر ے گی۔ انضمام الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کی حالیہ کارکردگی بہت اچھی رہی ہے لیکن انگلینڈ کے خلاف جیتنے کے لیے اسے غیرمعمولی پرفارمنس دینی ہوگی کیونکہ حالیہ برسوں میں ہوم گراؤنڈ پر پاکستانی ٹیم مشکلات سے دوچار ہوتی رہی ہے۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز جیتنے کے لیے انضمام الحق اپنے لیگ اسپنرز دانش کنیریا اور مشتاق احمد سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’اوپننگ کا مسئلہ حل کر سکتا ہوں‘23 October, 2005 | کھیل قومی کیمپ کے ممکنہ کھلاڑی19 October, 2005 | کھیل شعیب اختر انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں؟ 17 October, 2005 | کھیل آخر گیٹنگ کو معافی مانگنا پڑی03 October, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||