انگلینڈ کےکوچ کو برطانوی شہریت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈنکن فلیچر کو پندرہ سال کے انتظار کے بعد وزیر داخلہ کی مداخلت سے برطانوی شہریت مل گئی ہے۔ ڈنکن فلیچر زمبابوے میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کے والدین اور دادا دادی اور نانا نانی کی پیدائش برطانیہ کی ہے۔ فلیچر کی برطانوی شہریت کی درخواست اس سے پہلے دو بار اس بنیاد پر مسترد ہو چکی ہے کہ انہوں نے قانون میں دی گئی مدت ملک میں نہیں گزاری۔ قانون کے مطابق برطانوی شہریت کے لیے ضروری ہے کہ درخواست دہندہ نے پانچ سال برطانیہ میں گزارے ہوں اور اس دوران وہ چار سو پچاس دن سے زیادہ ملک سے باہر نہ رہا ہو۔ چھپن سالہ ڈنکن فلیچر کا مسئلہ یہ تھا کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے انہیں بہت سا وقت ٹیم کے ساتھ غیر ملکی دوروں پر گزارنا پڑتا تھا۔ شہریت ملنے پر انہوں نے کہا کہ یہ بہت اچھی خبر ہے۔ برطانیہ میں وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کے وزیر داخلہ چارلز کلارک نے ڈنکن فلیچر کے معاملے میں اپنے خصوصی اختیارات استعمال کیے ہیں جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ’مسٹر فلیچر شہریت کے حقدار ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||