BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی سپنرز اور ویسٹ انڈیز

مشتاق محمد
1977 میں پاکستان کے کپتان مشتاق محمد
جمیئکا میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 136 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سریز برابر کرلی اور ایک بار پھر پاکستان کے سپن بالروں نے کام دکھا دیا یعنی لگ سپنر دانش کنیریا نے 280 رنز نہیں بنانے دیے اور پانچ وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو 143 رنز پر دوسری اننگز میں آؤٹ کردیا۔

پاکستان کی ویسٹ انڈیز میں 22 ٹیسٹ میچوں میں یہ چوتھی جیت تھی اور جمیئکا کے سبینا پارک گراؤنڈ میں پہلی۔

یہ ایک عجیب اتفاق ہے کے ویسٹ انڈیز ہو یا پاکستان ہمیشہ جب بھی پاکستان نے ویسٹ انڈیز کیخلاف فتح حاصل کی تو سپنر بالروں کا اس میں کافی ہاتھ رہا ہے اور خاص طور پر لگ سپن بالرز کا۔

جمائکا ٹیسٹ کے ہیرو دانش کنیریا کے مطابق پوری ٹیم کو ان سے توقعات تھیں اور بھارت میں اچھی کارکردگی کے بعد وہ خود بھی بہت پراعتماد تھے۔ اور جب وکٹ سے مدد بھی ملی تو انہوں نے زبردست بولنگ کرکے ویسٹ انڈیز کا جلوس نکال دیا۔

پاکستان نے 1957-58 کے پہلے دورے میں جب آخری ٹیسٹ ایک اننگز اور ایک رن سے جیتا تو ویسٹ انڈیز کو اننگز کی شکست سےبچنے کے لیے 228 رنز بنانے تھے لیکن بائیں ہاتھ سے گیند کرنے والے لگ اسپنر نسیم الغنی نے دوسرے اننگز میں چھ وکٹیں لیکر ویسٹ انڈیز کو 227 رنز میں آؤٹ کردیا۔

نسیم الغنی اس میچ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ویسٹ انڈیز کی ٹیم چوتھی اننگ میں اگر ہدف کا پیچھا کررہی ہو تو عموماً اسپن بولنگ کے سامنے ٹھہر نہیں پاتی۔ نسیم الغنی نے اس میچ میں گیری سوبرز اور روہن کنہائی جیسے عظیم کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

1977میں جب ٹرینیڈاڈ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں پاکستان نے 226 رنز سے فتح حاصل کی تو ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے کے لیے 488 رنز بنانے تھے۔

لیکن پاکستان کے کپتان مشتاق محمد اور وسیم راجہ نے جو کے دونوں لگ اسپنر بالر تھے ویٹسٹ انڈیز کے چھکے چھڑا دیے اور ویسٹ انڈیز کو 222 رنز میں آؤٹ کردیا۔

مشتاق محمد نے اس میچ میں نہ صرف سنچری بنائی بلکہ میچ میں آٹھ وکٹیں بھی لیں جب کہ وسیم راجہ نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

نسیم الغنی
انیس سو 1957-58 میں نسیم الغنی چھ وکٹیں حاصل کیں

مشتاق محمد کے بقول ان کو اندازہ ہوگیا تھا کے چوتھی اننگ میں ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین لیگ اسپنرز کے سامنے نہیں ٹھہر پائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ باقی سیریز میں بھی جب بھی ویوین رچرڈز بیٹنگ کرنے آتے تھے یا وہ خود گیند کراتے تھے یا پھر وسیم راجہ کو گیند دیتے تھے اور شاید اسی وجہ سے رچرڈز پوری سیریز میں کوئی سنچری نہ بنا پائے۔

اس طرح جب عمران خان کی قیادت میں 1988میں ویسٹ انڈیز سے جارج ٹاؤن میں نو وکٹوں سے پاکستان نے میچ جیتا اور عبدالقادر نے بھی اہم کردار ادا کیا اور دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کو 172 رنز میں آؤٹ کردیا، جس میں تین وکٹیں ان کی تھیں۔

عبدالقادر کے مطابق لیگ اسپن تو ایک ایسا آرٹ ہے کہ اگر دن لیگ اسپنر کا ہو تو ویسٹ انڈیز تو کیا، دنیا کی کوئی بھی ٹیم ٹھہر نہی سکتی۔ انہوں نے اس ٹیسٹ میں کلائیو لائیڈ کی مضبوط ترین ٹیم کو کہ جس میں رچرڈز، ہینز، کالی چرن، گرینیج اور خود لائیڈ جیسے بیٹسمین شامل تھے، ہرایا تھا۔

لیکن دوسرے ٹیسٹ ٹرینیڈاڈ میں انہوں نے میچ میں آٹھ وکٹیں لے کر پاکستان کو فتح کے قریب لا کر کھڑا کر دیا۔

عبد القادر نے ایک بار پھر اپنی سحر انگیز سپن بالنگ کے سامنے ویسٹ انڈیز کو فیصل آباد میں کھیلے جانے 1986 کے ٹیسٹ میں ٹکنے نہ دیا اور پوری ٹیم کو صرف 53 رنز میں دوسری اننگز میں آؤٹ کردیا۔

انہوں نے صرف سولہ رنز دے کر چھ وکٹیں لیں اور پاکستان نے 186 رنز سے میچ جیت لیا۔

ووین رچرڈز جیسےکھلاڑی بھی جم کر نہ کھیل سکے۔

1997میں پشاور کے ٹیسٹ میں پاکستان کی ایک اننگز اور 19 رنز کی فتح میں مشتاق احمد نے میچ میں دس وکٹیں لیکر ویسٹ انڈیز کی صفوں میں تباہی مچادی۔ یہ سیریز پاکستان نے تین صفر سے جیتی۔

کراچی میں کھیلے جانے آخری ٹیسٹ میں اس بار لگ سپنر نہیں بلکہ آف سپنر ثقلین مشتاق نے ویسٹ انڈیز کا جلوس نکال دیا۔

انہوں نے پاکستان کی دس وکٹوں کی جیت میں صرف 80 رنز دیکر میچ میں نو وکٹیں لیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد