’دورۂ ویسٹ انڈیز نیا امتحان ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضام الحق نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کا دورہ ایک نیا امتحان ہے جسے وہ آسان نہیں سمجھتے اور اس چیلنج سےنمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ اس دورے میں پاکستانی ٹیم دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے گی۔ پاکستانی ٹیم کی ویسٹ انڈیز روانگی سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ بھارت کے دورے کی شاندار کارکردگی کو ویسٹ انڈیز میں بھی برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ’تمام کھلاڑیوں کی اس دورے پر نظر ہے اور بھارت کے دورے کو وہ ماضی سمجھ کر آنے والے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز نہ جیتنے کے جمود کو توڑنے کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے۔ لیکن ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو کسی بھی صورت آسان نہیں سمجھاجاسکتا کیونکہ اس کے پاس کرس گیل چندرپال سروان اور برائن لارا جیسے بیٹسمین ہیں جو کسی بھی وقت کھیل کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم کے ہاتھوں ویسٹ انڈیز کی شکست کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستانی ٹیم کے لئے ترنوالہ ثابت ہوگی۔ ان کے بقول پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لئے بھرپورصلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پاکستانی کپتان کے خیال میں ویسٹ انڈیز میں وکٹیں اب پہلے جیسی نہیں رہی ہیں۔اس صورتحال میں انہیں اپنے لیگ سپنر دانش کنیریا سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ شبیراحمد کی واپسی خوش آئند ہے البتہ محمد سمیع کی کمی محسوس ہوگی جنہوں نے بھارت میں اچھی بولنگ کی تھی۔انہیں توقع ہے کہ محمد سمیع ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لئے فٹ ہوجائیں گے۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ ون ڈے میں سپیشلسٹ بولرز کی کمی زیادہ محسوس نہیں ہوتی ’لیکن ٹیسٹ میں ان کے بغیر آپ نہیں جیت سکتے۔‘ شعیب اختر اور معین خان کو ٹیم میں شامل نہ کئے جانے کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہےکہ شعیب اختر کے متعلق سلیکٹرز نے انہیں بتایا تھا کہ ان کا فٹنس لیول مطلوبہ معیار کا نہیں تھا۔ جبکہ معین خان کے سلیکشن پر غور کیا گیا تھا لیکن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے کامران اکمل کو ترجیح دی گئی جنہوں نے آسٹریلیا اور بھارت میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انضمام باب وولمر کی کوچنگ سے مطمئن ہیں جنہیں یہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایک سال ہونے والا ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وولمر کو کھلاڑیوں کی خوبیوں اورخامیوں کا بخوبی اندازہ ہے اور کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے تعلقات دوستانہ ہیں۔ ’اس ایک برس کے دوران ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔‘ انضمام الحق ان نو کرکٹرز میں شامل ہیں جنہیں آئی سی سی نے آسٹریلیا کے خلاف سپر سیریز کے میچز کھیلنے والی عالمی الیون میں جگہ دی گئی ہے۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی کرکٹ کے لئے اعزاز کی بات ہے کیونکہ گزشتہ دو سال پاکستانی ٹیم کے لئے اچھا وقت نہیں تھا لیکن کھلاڑیوں کی محنت رنگ لائی اور انہیں امید ہے کہ جب حتمی ٹیم منتخب ہوگی پاکستان کے چار پانچ کھلاڑی اس میں شامل ہونگے۔ انضمام الحق کو یقین ہے کہ عالمی الیون ان میچوں میں آسٹریلیا کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||