’سوچ کر آیا تھا کہ لارا کو آؤٹ کرنا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلی اننگزمیں ویسٹ انڈیز کی برتری کے باوجود دوسری اننگز میں شاندار کارکردگی کی بدولت جمیئکا میں ہونے والا دوسرا ٹیسٹ میچ جیتنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے کہا کہ میچ جیتنے کا سہرا دانش کنیریا کے سر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری اننگز میں بنیادی فرق صرف دانش ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ باربیڈوس کے میچ کے بعد لڑکے بڑے فوکسڈ تھے۔ ’خاص کر یونس، دانش اور شبیر نے بہت اچھا کھیل کھیلا۔ میری طرف سے ایک بڑی اننگز تھی خدا کا شکر ہے کہ میں کامیاب رہا۔ لیکن سب نے ہی اچھا کھیلا ہے۔ شعیب ملک کی چونسٹھ رنز کی اننگز بھی ہمارے لیے ایک اہم اننگز تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ لڑکوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ مضبوط اعصاب کے اور محنتی ہیں اور وقت آنے پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ’چوتھے دن مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وکٹ پر سکور کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس کوالٹی بالر ہیں اس لیے ہمارے پاس چانس تھا۔ انہوں نے کہا کہ 280 کوئی بڑا سکور نہیں تھا لیکن یہ ایک فائٹنگ سکور تھا۔ دوسری اننگز میں اتنا سکور بھی مکمل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ ایک مشکل ٹارگٹ ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ جب بھی ہم نے وکٹ چاہی ہم کو مل گئی‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بارش نے ’ہماری مدد نہیں کی بلکہ اس سے ہمیں الٹا نقصان ہو رہا تھا۔ دانش بار بار اس بات کی شکایت کر رہے تھے کہ گیند پر گرپ سہی نہیں ہو رہی ہے‘۔ مین آف دی میچ کا اعزازپانے والے دانش کنیریا کا کہنا تھا کہ گو میں نے پہلی اننگز میں اتنی اچھی گیند نہیں کی تھی لیکن کپتان اور کوچ نے مجھ پر بھروسہ کیا اور میں ان کے اعتماد پر پورا اترا۔ ’مجھے بھی اپنے آپ پر پورا اعتماد تھا کہ میں کھیل میں واپس آؤں گا اور آؤٹ کروں گا اور ملک کے لیے میچ جیتوں گا۔‘ انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میں بیسٹمین پر پورا پریشر ڈالوں اور وکٹ حاصل کر لوں۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں بھی میں نے بہت اچھی گیند کی تھی اور مجھے پورا اعتماد تھا کہ میں یہاں بھی ایسا ہی کروں گا۔ ’میں نے اپنی پوری جان لگا دی تھی‘۔ لارا کو آؤٹ کرنے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان سے ہی یہ سوچ کر آیا تھا کہ لارا کی وکٹ لوں گا اور وہ بھی س لیے کہ لارا میرے پسندیدہ بیٹسمینوں میں سے ہیں۔ اور میری کوشش کی تھی کہ میں ان کی وکٹ حاصل کروں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||