پاکستان نے ون ڈے سیریز جیت لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو سینٹ لوشیا میں ہونے والا دوسرا ایک روزہ کرکٹ میچ چالیس رنز سے ہرا کر تین میچوں کی سیرز دو صفر سے جیت لی ہے۔ اب اتوار کو تیسرا اور آخری میچ کھیلا جائے گا۔ پاکستان نے مقررہ پچاس اوورز میں آٹھ کھلاڑیوں کے نقصان پر 258 رنز بنائے ہیں اور ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے کے لیے 259 کا ٹارگٹ دیا۔ ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ ایک مرتبہ پھر ناکام رہی اور مارٹن اور گیل کے علاوہ کوئی بھی بیٹسمین قابلِ ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ اور اس طرح ویسٹ انڈیز کی پوری کی ٹیم 218 سکور پر آؤٹ ہو گئی۔ آخری کھلاڑیوں نے میچ کے آخری اوورز اچھے سٹروکس لگائے لیکن وہ میچ جتوانے کے لیے کافی نہیں تھے۔ شاہد آفریدی جو کہ بیٹنگ میں تو اپنے جوہر زیادہ نہیں دکھا سکے لیکن بولنگ میں ویسٹ انڈیز کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے اور اپنے دس اوورز میں چالیس رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی طرف سے رانا نوید نے دو جبکہ راؤ افتخار اور شبیر نے ایک ایک وکٹ حاصل کیے۔ ویسٹ انڈیم کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی زیویئر مارشل تھے جنہوں نے سات رنز بنائے۔ وہ رانا نوید کی گیند پر سلمان بٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا سکور پچیس تھا۔ کرس گیل نے تیز کھیلتے ہوئے پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے پینتالیس گیندوں پر تینتیالیس رنز بنائے اور آخر شبیر کی ایک اندر گیند پر بولڈ ہوئے۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا سکور سڑسٹھ تھا۔ ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین مورٹن اور ساروان نے سکور میں آہستہ آہستہ اضافہ کرنا شروع کر دیا اور جب سکور ترانوے پر پہنچا تو ساروان سترہ رنز بنا کر ایک مشکل رن بنانے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ ان کو یونس خان نے ایک ڈائریکٹ تھرو پر رن آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز نے اپنے سو رنز تیئسویں اوور میں بنائے۔ کپتان چندرپال بھی ویسٹ انڈیز کے لیے کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکے اور ساروان کی طرح ہی ایک تیز رن بنانے کی کوشش میں صرف تین کے سکور پر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا سکور ایک سو چودہ تھا۔ ویسٹ انڈیز کی پانچویں وکٹ ایک سو تریسٹھ کے سکور پر گری جب پچپن رنز بنانے کے بعد مارٹن شاہد آفریدی کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ ایک سو تریسٹھ کے سکور پر ہی براوو آفریدی کا دوسرا شکار بنے۔ شاہد کی تیسری وکٹ ہائنڈز کی تھی جو ان کی ایک لیگ پر آتی گیند کو نہ سمجھ سکے اور بولڈ ہو گئے۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا سکور 172 تھا۔ جب سکور ایک سو بانوے پر پہنچا تو آفریدی نے بریڈشا کو بھی بولڈ کر دیا۔ انہوں نے پانچ رنز بنائے۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کی اننگز کی خاص بات یہ تھی کہ تقریباً سب ہی کھلاڑیوں نے سکور بڑھانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا جو کہ ایک ٹیم ایفورٹ کی مثال ہے۔ گو پاکستان ٹیم دو کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد ذرا آہستہ کھیلنا شروع ہو گئی تھی لیکن انہوں نے ساتھ ساتھ سکور بورڈ کو حرکت میں رکھا۔ پاکستان کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی شاہد آفریدی تھے جنہوں نے اپنے کھاتے کا آغاز تو ایکسٹرا کور پر ایک شاندار چھکے سے کیا لیکن دس گیندیں کھیلنے کے بعد وہ ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے بارہ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کے بعد فوراً ہی سلمان بٹ ایک تیز رن بنانے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے سولہ رنز بنائے۔ آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی یوسف یوحنا تھے۔ جنہوں نے اکیس رنز بنائے۔ انہیں ہائنڈز نے آؤٹ کیا۔ شعیب ملک نے کپتان انضمام الحق کے ساتھ مل کر بڑی عمدہ اننگز کھیلی اور اکیاون رنز بنانے کے بعد وہ بھی سلمان بٹ ہی کی طرح تیز رن بنانے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوئے۔ ان کو ویسٹ انڈیز کے کپتان چندرپال نے رن آؤٹ کیا۔ میچ کے چھتیسویں اوور میں انضمام کو گیل کی ایک فل ٹاس گیند لگی اور وہ زخمی ہونے کے بعد گراؤنڈ سے باہر چلے گئے۔ ان کی جگہ عبدالرزاق کھیلنے کے لیے آئے۔ وہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہیں جم سکے اور کولیمور کی ایک گیند پر بولڈ ہو گئے۔ انہوں نے ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے بیس رنز بنائے۔ رزاق کے آؤٹ ہونے کے بعد انضمام آئے لیکن اپنے ساتھ شعیب ملک کو بطور رنر لائے۔ ابھی انہوں نے کھیل شروع ہی کیا تھا کہ یونس خان اور شعیب ملک کا وکٹ پر دوڑتے ہوئے مکس اپ ہو گیا جو کہ ایک یقینی رن آؤٹ تھا لیکن گیند ویسٹ انڈیز کے فیلڈر کے ہاتھ سے نکل گئی اور اس طرح انضمام ایک مرتبہ پھر رن آؤٹ ہوتے ہوتے بچ گئے۔ انضمام اکیاون رنز بنانے کے بعد میچ کے چھیالیسویں اوور میں کرس گیل کی گیند پر گلی میں براوو کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت پاکستان کا سکور دو سو بائیس تھا۔ نائب کپتانن یونس خان اڑتالیس رنز بنانے کے بعد میچ کے پچاسویں اوور میں کولیمور کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ ان کے فوراً بعد رانا نوید بھی کالیمور کی گیند پر ہی ان ہی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے اور اس طرح پاکستان نے اپنی اننگز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر دو سو اٹھاون رنز بنائے۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دونوں ٹیموں نے اپنے کھلاڑیوں میں کوئی تبدیلی نہیں اور جن کھلاڑیوں نے پہلا ون ڈے کھیلا تھا وہ ہی دوسرا ون ڈے بھی کھیلے۔ ویسٹ انڈیز سے کالیمور سب سے کامیاب بولر رہے۔ انہوں نے دس اوورز میں چالیس رنز دے کر تین وکٹ لیے۔ ہائنڈز، پاول اور گیل کے حصے میں ایک ایک وکٹ آیا۔ سینٹ لوشیا کے بوزیژور سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز نے اس پہلے سات ایک روزہ میچ کھیلے ہیں جن میں سے پانچ ویسٹ انڈیز نے جیتے اور دو ہارے ہیں۔ پاکستان: شاہد آفریدی، سلمان بٹ، شعیب ملک، یوسف یوحنا، انضمام الحق ( کپتان)، یونس خان، عبدالرزاق، کامران اکمل،نوید الحسن، افتخار انجم، شبیر احمد ویسٹ انڈیز: کرِس گیل، ایکس ایم مارشل، آر آر سروان، آر ایس مورٹن، ایس چندر پال ( کپتان)، ڈبلیو پائنڈز، براوو، براؤن، بریڈشا، پاول، کولیمور |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||