BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 May, 2005, 22:44 GMT 03:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان جیت گیا

شاہد آفریدی
شاہد آفریدی کو ویسٹ انڈیز میں ’ہریکین آفریدی‘ کہا جا رہا ہے
کیریبیائی جزیرے سینٹ ونسنٹ کے آرنوس ویل سٹیڈیم میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پاکستان نے جیت لیا ہے۔

پاکستان کے ایک سو بانوے کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم پینتالیس اعشاریہ دو اوور میں ایک سو تینتیس رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح یہ میچ پاکستان 59 رنز سے جیت گیا۔

یہ کہنا شاید ذرا مشکل ہے کہ پاکستان کی جیت میں اہم کردار کس کا ہے: بولروں کا، فیلڈروں کا کہ انضمام الحق کی اچھی کپتانی کا۔ اگرچہ پاکستانی بیٹسمین پہلے کھیلتے ہوئے کوئی بڑا سکور نہیں کر سکے لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج شروع ہی سے جیتنے والی ٹیم کی سی تھی۔

دوسری طرف ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں برائن لارا کی کمی شدت سے محسوس کی گئی کیونکہ اس کا کوئی بھی کھلاڑی جم کر نہ کھیل سکا۔ سب سے زیادہ رنز اوپنر گیل اور براوو نے بنائے۔ گیل بائس رنز بنا کر نوید الحسن کی گیند پر وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے اور براوو کو شبیر کی گیند پر شاہد آفریدی نے آؤٹ کیا۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان چندرپال ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور تیرہ کے سکور پر عبدالرزاق کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ ان کا کیچ بھی وکٹ کیپر کامران اکمل نے لیا۔ عبدالرزاق ہی نے ویول ہائنڈز کو اپنی ایک اندر آتی ہوئی گیند پر بولڈ کیا۔

پاکستان کی پوری ٹیم خصوصاً کپتان انضمام الحق نے بہت مثبت انداز سے میچ کھیلا اور میچ کے دوران کسی بھی لمحے یہ تاثر پیدا ہونے نہیں دیا کہ ٹیم کہیں دباؤ میں آئی ہے۔ انضمام نے پورے میچ میں جارحانہ فیلڈنگ رکھی اور زیادہ تر فیلڈرز کو آف سائڈ پر رکھا۔ خوش قسمتی سے بولر بھی فیلڈنگ کے مطابق گیندیں کرتے رہے اور وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرتے رہے۔

شاہد آفریدی جنہیں یہاں ’ہریکین آفریدی‘ کے نام سے پکارا جا رہا ہے بیٹنگ میں کوئی لمبا سکور تو نہ کر پائے لیکن انہوں نے اپنے چوبیس رنز میں ہی اپنا پورا رنگ دکھایا۔ ان کے چوبیس رنز میں تین شاندار چوکے شامل تھے۔ اور جب وہ بولنگ کرنے آئے تو اپنی پہلی ہی گیند پر مورٹن کو آؤٹ کر دیا۔ ان کا کیچ کامران اکمل نے لیا۔ آفریدی نے اپنا دوسرا وکٹ براؤن کو اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کر کے لیا۔ اور ویسٹ انڈیز کی دسویں وکٹ لینے میں بھی ان کا ہی کردار تھا۔ انہوں نے شبیر کی گیند پر براوو کا کیچ پکڑ کر پاکستان کو پہلا ون ڈے جتوا دیا۔

پاکستان بولنگ کے دباؤ میں رانا نوید الحسن کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ بھارت کے ہیرو نے سینٹ ونسنٹ میں بھی پہلی دو وکٹ لے کر اپنی نپی تلی گیندوں کی روایت برقرار رکھی۔

پاکستان کی طرف سے سلمان بٹ اور یونس یوحنا کے علاوہ پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی جم کر نہیں کھیل سکا اور یکے بعد دیگرے وکٹ ویسٹ انڈیز کے بولروں کے ہاتھوں میں جاتے رہے۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان چندرپال نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی اور سلمان بٹ اور شاہد آفریدی نے پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز کیا۔

جب تک شاہد آفریدی وکٹ پر رہے اس وقت تک لگتا تھا کہ پاکستان ایک بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن شاہد آفریدی تین چوکوں کی مدد سے چوبیس رنز بنانے کے بعد اپنی ہی کال پر دوسرا رن بناتے ہوئے رن آؤٹ ہو گئے۔

سلمان بٹ نے بہت محتاط طریقے سے اپنی اننگز کھیلی۔ وہ بیالیس کے سکور پر کیچ آؤٹ ہو گئے اور اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے۔

کپتان انضمام الحق اور یوسف یوحنا نے پاکستان کی اننگز کو سہارا دینے کی کوشش کی اور سکور کو ایک سو تینتیس تک پہنچایا لیکن یوسف یوحنا گیند کو شاٹ لگاتے ہوئے کریز سے آگے چلے گئے اور انہیں وکٹ کیپر براؤن نے آؤٹ کر دیا۔ انہوں نے تیس رنز بنائے۔

ایک سو پچپن کے سکور پر انضمام کو گیل نے بولڈ کر دیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر تیئس رنز بنائے۔ ایک رن کے بعد ہی گیل نے اپنی ہی گیند پر یونس خان کا کیچ لے لیا۔ کامران اکمل بھی کوئی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے اور چھ رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور رانا نوید الحسن صرف ایک رن بنا سکے۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے کرس گیل تین وکٹ لینے کےبعد سب سے کامیاب بولر رہے۔

سینٹ ونسنٹ میں گزشتہ دو دن کافی بارش ہوئی ہے اور بارش کی وجہ سے آؤٹ فیلڈ بھی گیلی ہو گئی جس کی وجہ سے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی کوئی بڑا سکور نہ بنا سکے اور یہ ایک لو سکورنگ میچ رہا۔

اور آخری بات سینٹ ونسٹ کے تماشائیوں کی۔ اگرچہ بہت پہلے یہ نظر آنا شروع ہو گیا تھا کہ ویسٹ انڈیز یہ میچ ہار جائے گا لیکن پھر بھی کوئی تماشائی اپنی جگہ سے اٹھ کر گھر نہیں گیا اور کرکٹ کا مزہ لیتے رہے۔ اور پاکستانی تماشائی۔ ٹیم کے باقی کھلاڑیوں، مینجمنٹ اور میری طرح ایک جونیئر اور باقی سینیئر کمینٹریٹروں اور سابق پاکستانی کھلاڑی کے علاوہ ان کے حمایتی کم ہی نظر آئے۔ ٹیم سینٹ ونسنٹ کے میدان میں اپنا جھنڈا گاڑ تو آئی لیکن گراؤنڈ میں لہراتا نظر نہیں آیا۔

ویسٹ انڈیز
شیونارین چندرپال (کپتان)، ائین بریڈشا، ڈویئن براوو‘ کورٹنی براؤن، کوری کولی مور، ویول ہائنڈز، کرِس گیل، زیؤیئر مارشل، رُناکو مورٹن، ڈیرن پاول، رام ناریش سراوان۔

پاکستان انضمام الحق (کپتان) ، یونس خان، شاہد آفریدی، عبد الرزاق، کامران اکمل، سلمان بٹ، یوسف یوحنا، شعیب ملک، رانا نوید الحسن، شبیر خان، عاصم کمال، راؤ افتخار انجم۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد