ایشین جونیئر باکسنگ مقابلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلی ایشین جونیئر باکسنگ چیمپئن 20 سے 25 جون تک کراچی میں منعقد ہورہی ہے جس میں ابتک 19 ممالک نے شرکت کی تصدیق کردی ہےتوقع ہے کہ یہ تعداد 25 تک جاپہنچے گی۔ چیمپئن شپ میں حصہ لینے والے ممالک میں بھارت بھی شامل ہے جس نے تمام گیارہ کیٹگریز میں اپنے باکسرز بھیجنے کا فیصلہ کیاہے۔ پاکستان اور آذربائیجان بھی تمام کیٹگریز میں حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی اسکواڈ کا انتخاب کیوبن کوچ الوریز تیرہ جون کو ہونے والے ایک مقابلے کے ذریعے کرینگے پاکستانی باکسنگ حکام پہلے ہی 23 باکسرز کیمپ کے لئے منتخب کرچکے ہیں جن میں سے 11 چیمپئن شپ میں حصہ لیں گے۔ منتظمین نے 46 ممالک کو دعوت نامے بھیجے ہیں جن قابل ذکر ملکوں نے ابھی تک شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے ان میں چین اور فلپائن شامل ہیں۔ یہ مقابلے کے پی ٹی اسپورٹس کمپلیکس میں ہونگے جہاں گزشتہ سال اولمپکس کوالیفائنگ ٹورنامنٹ بھی کامیابی سے منعقد ہوچکا ہے۔ ایشین جونیئر باکسنگ چیمپئن شپ کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ شام سے تعلق رکھنے والے کامل ایم شبیب کو ٹیکنیکل ڈیلیگیٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے میجر ( ریٹائرڈ) عبدالرشید پانچ رکنی جیوری کے چیئرمین ہونگے۔ چیمپئن شپ میں تقریبا 35 ریفریز ججز کے فرائض انجام دینگے جن میں میزبان پاکستان کے تین ریفریز ججز شامل ہیں۔ ایشین جونیئر باکسنگ چیمپئن شپ کا خیال عالمی باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر انورچوہدری نے پیش کیا اور انہی کی کوششوں کے نتیجے میں اس کا انعقاد پاکستان میں ہورہا ہے۔ پروفیسر انور چوہدری ماضی میں بھی ایشیائی ممالک میں بین الاقوامی مقابلوں کی ابتدا کے محرک رہے ہیں جن میں تھائی لینڈ کا کنگز کپ فلپائن کا میئر کپ اور انڈونیشیا کا پریذیڈنٹ کپ قابل ذکر ہیں۔ پروفیسر انورچوہدری کا کہنا ہے کہ ایشین جونیئر باکسنگ چیمپئن کا مقصد 2008ء میں بیجنگ میں ہونے والے اولمپکس کے لئے باکسرز تیار کرنا ہے۔ چونکہ اس چیمپئن شپ میں حصہ لینے والے باکسرز کی عمر سترہ سے انیس سال کے درمیان ہوگی لہذا اولمپکس تک یہ باکسرز تیار ہوچکے ہونگے۔ عالمی باکسنگ کی سرکردہ شخصیت کی خواہش ہے کہ پاکستان بیجنگ اولمپکس کے باکسنگ مقابلوں میں تمغہ حاصل کرے ان کا کہنا ہے کہ صدر مشرف نے باکسنگ کے لئے دو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا تھا جس میں سے آدھی رقم ہی ان تک پہنچی ہے جس سے باکسرز کی تیاری کے عمل کو نقصان پہنچا ہے۔ حالانکہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ پاکستانی باکسرز نے ہر بین الاقوامی مقابلے میں تمغے جیتے ہیں لیکن افسر شاہی ہمیشہ سے رکاوٹ بنی رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||