BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2003, 15:42 GMT 20:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اسپورٹس اور 2003

باکسنگ

باکسنگ
اصغر علی شاہ نے کامن ویلتھ چیمپئن شپ کے علاوہ گرین ہل انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل جیتا

باکسنگ رنگ میں پاکستانی باکسرز حسب معمول اپنے حریفوں کے چہروں پر نشانات ثبت کرکے سینے پر چمکتے تمغے سجاتے رہے لیکن یہ خبر پہلی بار سننے کو ملی کہ سرکار نے بھی باکسرز اور باکسنگ کی قسمت بدلنے پر توجہ دی۔ ایتھنز اولمپکس کی بھرپور تیاری اور انڈوراسٹیڈیم کے لئے صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کو ایک کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بوسان ایشین گیمز میں پاکستان کا واحد گولڈ میڈل جیتنے والے باکسر مہراللہ کو پچاس لاکھ روپے کا آنکھوں کو خیرہ کردینے والا نقد انعام بھی دیا اور اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والے پاکستانی باکسر کے لئے ایک کروڑ روپے کا اعلان بھی کیا ہے۔ سن دو ہزار تین میں مہراللہ نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ تین طلائی اور دو نقرئی تمغے جیتے۔ انہوں نے کوالا لمپور میں منعقدہ کامن ویلتھ چیمپئن شپ کے علاوہ کراچی کے گرین ہل اور چین کے انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں سنہرے چمکتے تمغے اپنے سینے پر سجائے۔ اصغر علی شاہ نے کامن ویلتھ چیمپئن شپ کے علاوہ گرین ہل انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل جیتا۔ اس سال پاکستان نے پہلی مرتبہ عالمی امیچر باکسنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیا۔ نعمان کریم اس مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ بخارسٹ میں ہونے والی ورلڈ کیڈٹ چیمپئن شپ میں بھی پاکستان نے پہلی مرتبہ شرکت کی اور تین میں سے ایک باکسر علی محمد نے کوارٹرفائنل تک رسائی حاصل کی۔ اس سال پاکستان نے مجموعی طور پر چھ گولڈ میڈل، نو چاندی کے تمغے اور تیرہ کانسی کے تمغے جیتے۔

سنوکر

سنوکر
صالح محمد فائنل تک آتے آتے کسی کھلاڑی سے نہیں ہارے تھے

یہ سال پاکستان اور بھارت کے لئے امیچر سنوکر میں خوشی کا پیغام لے کر آیا۔ چین میں ہونے والی عالمی امیچر سنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں مدمقابل ہونے والے کھلاڑی پاکستان کے صالح محمد اور بھارت کے پنکج ایڈوانی تھے جس میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سالہ طالب علم پنکج ایڈوانی نے چھ کے مقابلے میں گیارہ فریمز سے اپنے تجربہ کار حریف کو قابو کرلیا۔ صالح محمد فائنل تک آتے آتے کسی کھلاڑی سے نہیں ہارے تھے لیکن فائنل میں وہ عالمی اعزاز کا فیصلہ کن مقابلہ اپنے نام کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یہ عالمی مقابلے میں ان کی سب سے بہترین پرفارمنس تھی۔ اس سے قبل چین ہی میں پانچ سال قبل منعقد ہونے والی ورلڈ امیچر سنوکر چیمپئن شپ میں وہ سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس سال پاکستان اور بھارت سنوکر ٹیبل پر آمنے سامنے آئے جسے مبصرین نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں پہلا قدم قراردیا۔ کراچی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی سنوکر ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی۔ اس سیریز میں دونوں جانب سے جانے پہچانے کیوسٹس نے شرکت کی۔ سیریز میں میں سابق عالمی اور ایشین چیمپئن محمد یوسف ، دو مرتبہ کے ایشین چیمپئن یاسین مرچنٹ اور موجودہ عالمی امیچر چیمپئن پنکج ایڈوانی کے علاوہ صالح محمد، نوین پروانی ، الوک کمار مانن چندرا اور خرم آغا شامل تھے۔اس سال کھیلوں کے کئی مقابلے سارز وائرس کی وباء پھیلنے سے متاثر ہوئے جس کے نتیجے میں بھارت میں ایشین سنوکر چیمپئن شپ منعقد نہ ہوسکی۔

ہاکی

ہاکی
پاکستان ہاکی کے لئے یہ سال ملی جلی کارکردگی کا حامل رہا

پاکستان ہاکی کے لئے یہ سال ملی جلی کارکردگی کا حامل رہا۔ پاکستان نے سال کا آغاز کوالالمپور میں اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ جیت کر کیا۔ فائنل میں اس نے جرمنی کو ایک گول سے شکست دی لیکن ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایمسٹرڈیم میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے لیگ میچ میں 4 --- 7 سے شکست کھانے کے بعد بھارت کو تیسری پوزیشن کے میچ میں 3---4 سے ہرا کر کانسی کا تمغہ جیتا۔ سہیل عباس سمیت تین اہم کھلاڑیوں کے فیڈریشن کو بتائے بغیر جرمنی میں لیگ کھیلنے کا تنازعہ کوچ شہناز شیخ کے استعفے پر منتج ہوا۔ ان کھلاڑیوں کے بغیر پاکستان ٹیم آسٹریلیا میں کھیلے گئے چار قومی ٹورنامنٹس میں مایوس کن کارکردگی کے بعد چوتھے نمبر سے اوپر نہ جاسکی۔ پاکستان ہاکی ٹیم سال کے دوران شہناز شیخ کے بعد دوسرے مینجر رشید جونیئر کی خدمات سے بھی محروم ہوگئی جنہوں نے فیڈریشن کی پالیسیوں سے اختلاف کے نتیجے میں استعفٰی دے دیا جس کے بعد ہالینڈ کے رولینٹ آلٹمینز قومی ٹیم کے کوچ بنادیے گئے۔ ان کے علاوہ ہالینڈ کے سابق گول کیپر جینسن کو پاکستان ٹیم کا گول کیپنگ کوچ مقرر کیاگیا ہے۔ پاکستان کو حیدرآباد دکن میں ہونے والے افرو ایشین گیمز کے فائنل میں بھی بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وجہ وہی پرانی تھی کہ سہیل عباس ٹیم میں شامل نہ تھے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن لاکھ یہ دعوٰی کرے کہ پاکستان ٹیم ون مین شو نہیں ہے لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ میدان میں سہیل عباس واضح فرق بن کر سامنے آتے ہیں۔ 2003 ء میں سہیل عباس 27 گول کے ساتھ پاکستان ہاکی ٹیم کے سب سے نمایاں کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے۔

اسکواش

اسکواش
رحمت خان کے تربیت یافتہ کھلاڑیوں نے برٹش اوپن جونیئر مقابلوں میں بھرپور جوہر دکھائے

وہ دن گئے جب اسکواش کورٹس پر پاکستان کی بالادستی تھی۔ اب معاملہ پہلے دوسرے راؤنڈز یہاں تک کوالیفائنگ راؤنڈز سے آگے کا نہیں رہا۔ عالمی رینکنگ میں سب سے اچھی پوزیشن کے حامل پاکستانی کھلاڑی منصور زمان نے ملک میں چھوٹی انعامی رقم والے ٹورنامنٹس کے دو فائنلز کھیلے لیکن دونوں میں وہ اپنے سے نیچے رینکنگ کے فرانسیسی کھلاڑی گریگوری گالٹیئر سے ہارگئے۔ برٹش اوپن اور ورلڈ اوپن میں وہ دوسرے راؤنڈ سے آگے نہ جاسکے۔ شاہد زمان نے تین سال قبل بین الاقوامی مقابلوں میں عمدہ کارکردگی دکھاکر اپنے روشن مستقبل کی نوید سنائی تھی لیکن اب ان کا کھیل بلندی کی بجائے زوال پذیر ہے۔ اس سال وہ کوچ رحمت خان سے زبانی جنگ میں زیادہ مصروف رہے۔ ورلڈ اوپن میں وہ پہلے ہی میچ میں شکست سے دوچار ہوگئے۔ ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ پاکستان نے نویں پوزیشن حاصل کی۔ گوکہ یہ پوزیشن گزشتہ چیمپئن شپ کی گیارہویں پوزیشن سے بہتر تھی لیکن اہم میچوں میں برتری لینے کے بعد پاکستانی کھلاڑی اپنے سے نیچے رینکنگ کے کھلاڑیوں سے بھی میچ نہ جیت سکے۔ سینیئر کھلاڑیوں کے کوچ رحمت خان کے ساتھ اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ یہ کھلاڑی کوچ کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ سابق عالمی چیمپئن جہانگیرخان کے مطابق ورلڈ ٹیم ایونٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کا ڈسپلن مایوس کن تھا۔ سینیئر کھلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی کے برعکس نوجوان جونیئر کھلاڑی روشن مستقبل کی امید کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سال کے اوائل میں رحمت خان کے تربیت یافتہ نوجوان کھلاڑیوں نے برٹش اوپن جونیئر مقابلوں میں اپنے بھرپور جوہر دکھائے۔ سفیرخان نے بیس سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستان کے لئے پہلا انڈر 19 ٹائٹل جیتا۔ یاسربٹ، فرحان محبوب اور عامر اطلس نے بھی اپنے باصلاحیت ہونے کا مکمل ثبوت فراہم کیا اور انڈر 17 انڈر 13 مقابلوں میں شاندار پرفارمنس دی۔

کرکٹ

کرکٹ
کرکٹ

2003 پاکستانی کرکٹ کے لئے میدان اور میدان سے باہر زبردست اتارچڑھاؤ کے سبب انتہائی ہنگامہ خیز سال ثابت ہوا۔ جنوبی افریقہ میں ہونے والے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے سے قبل ہی واپسی کا سفر اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے تشکیل نو کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سینئر کھلاڑیوں کو گھر کا راستہ دکھایا اور انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہنے والے راشد لطیف کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہوئے قیادت کی ذمہ داری سونپ دی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی لیکن اس کی کسی کا کچھ نہ بگاڑنے والی روایتی رپورٹ اخبارات و جرائد کے صفحات سیاہ کرنےکے بعد داخل دفتر کردی گئی اور ورلڈ کپ میں ٹیم کی شکست کے ذمہ دار کھلاڑی ایک ایک کرکے واپس بلالئے گئے۔ راشد لطیف کی کپتانی میں پاکستان ٹیم نے شارجہ کپ جیتا، سری لنکا کے ون ڈے ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا ، انگلینڈ میں ون ڈے سیریز میں عمدہ پرفارمنس دی اور بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز دونوں میں کلین سوئیپ کیا۔ تاہم چیف سلیکٹر عامر سہیل سے شدید اختلافات کے نتیجے میں راشد لطیف کپتانی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں متنازعہ کیچ پر وہ پانچ ون ڈے انٹرنیشنل کی پابندی کی زد میں آئے۔ ٹیم میں واپسی برائے نام ہوئی کیونکہ قیادت انضمام الحق کو سونپی جاچکی تھی۔ سال کا سب سے بڑا تنازعہ جیو ٹی وی کو نیوزی لینڈ کے خلاف نشریاتی حقوق دیئے جانے کی صورت میں سامنے آیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی براہ راست کرکٹ کوریج کی تاریخ میں پہلی بار کوئی میچ براہ راست ٹیلی کاسٹ نہ ہوسکا۔ اسی دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ توقیر ضیا نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا جو کافی دنوں سے اپنے بیٹے کو ہم عصر باصلاحیت کھلاڑیوں پر فوقیت دے کرضرورت سے زیادہ کھیلنے کے مواقع دیئے جانے پر زبردست تنقید کی زد میں تھے۔ توقیرضیا کو خوش کرنے والے ان کے مشیروں کی حواس باختگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک روز چیف سلیکٹر انہیں جونیئر ٹیم کا کپتان بنانے کا اعلان کردیتے ہیں تو دوسرے دن جنرل صاحب انہیں کپتانی سے ہٹاکر میڈیا کی زبردست تنقید کے اثرات زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک روز انہیں عمرگل جیسے بولر پر ترجیح دے کر نیوزی لینڈ کے دورے پر جانے والی پاکستان ٹیم میں شامل کرنے کا چونکا دینے والا اعلان کیا جاتا ہے تودوسرے دن جنرل صاحب کے مشیروں کو خیال آجاتا ہے کہ جنید ضیاء کے امتحانات سر پر ہیں لہذا وہ نیوزی لینڈ نہیں جاسکیں گے لیکن امتحانات کی یہ کیسی تیاری ہے کہ وہ انہیں تاریخوں میں بھارت کے اے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی پاکستان اے کرکٹ ٹیم میں بدستور موجود رہے۔

کرکٹ
شہریار خان پی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے نئے سربراہ مقرر کردیئے گئے

ایک فوجی کے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ کی باگ ڈور ایک سفارتکار کے سپرد کردی گئی ورلڈ کپ میں 16 کھلاڑیوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہنے والے انہتر سالہ شہریار خان پاکستان کرکٹ بورڈ ایڈہاک کمیٹی کے نئے سربراہ مقرر کردیئے گئے۔ لیکن کرکٹ کے حلقے شدت سے ان کے ان اقدامات کے منتظر ہیں جن سے وہ یہ ثابت کرسکیں کہ کرکٹ بورڈ میں ہونے والی تبدیلی محض چہرے کی تبدیلی نہیں ہے۔ دنیا کے لئے ’نوگو‘ ایریا قرار دیئے جانے والے میدان بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے پاکستان آنے سے پھر آباد ہوئے لیکن جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کا پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نہ کھیلنے کا اصرار بدستور قائم رہا۔ ایک طویل عرصے تک جمی برف پگھلنے کو ہے اور دنیا بے چینی سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے دورے کی منتظر ہے۔

2003 میں پاکستانی کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے یوسف یوحنا، توفیق عمر، یاسرحمید، عمران فرحت اور محمد سمیع نمایاں رہے۔ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین پاکستان کے یوسف یوحنا رہے۔ بیٹسمینوں میں توفیق عمر سرفہرست رہے، یاسرحمید نے بنگلہ دیش کےخلاف کراچی میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز دونوں اننگز میں سنچریوں کے ساتھ کیا۔ ان سے قبل یہ منفرد اعزاز صرف ویسٹ انڈیز کے لارنس رو کو حاصل تھا۔ یاسرحمید نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں عمران فرحت کے ساتھ لگاتار چار میچوں میں پہلی وکٹ کے لئے سنچری شراکتیں قائم کرکے نئی تاریخ رقم کی۔ عمران فرحت نے توفیق عمر کے ساتھ جنوبی افریقہ کے خلاف لگاتار تین اننگز میں پہلی وکٹ کی سنچری پارٹنرشپ بنائیں۔ فاسٹ بولر شعیب اختر کبھی فٹ تو کبھی ان فٹ رہ کر شہ سرخیوں میں رہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پال ایڈمز کے ساتھ زبانی جنگ انہیں مہنگی پڑگئی اور وہ ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کی پابندی کی زد میں آئے البتہ وقفے وقفے سے ان کے طوفانی اسپیل دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ 2003 ء میں دو عالمی ریکارڈ ہولڈرز نے دنیائے کرکٹ کوالوداع کہا۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں پانچ سو وکٹیں حاصل کرنے والے عہد ساز وسیم اکرم کا ہنگامہ خیز عہد اختتام کو پہنچا۔ اسی طرح ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 194 رنز کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے سعید انور نے بھی یہ اندازہ لگالیا کہ وقت اب ان کا نہیں رہا۔ انہوں نے بھی کرکٹ کو خدا حافظ کہہ دیا تاہم ان کے ہم عصر وقار یونس کرکٹ کے میدان چھوڑنے کے لئے تیار نہیں اور اب بھی پاکستان ٹیم میں واپسی کے لئے پرعزم ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد