ٹھیک گیندیں کرو ورنہ سہواگ ۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وشاکاپٹنم میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل کو کئی روز گزر گئے ہیں مگر لاہور میں گفتگو کا موضوع ابھی مہندر سنگھ دھونی کی دھواں دار بیٹنگ ہی ہے۔ ’یہ کون کھلاڑی ہے جس نے پاکستانی بولنگ کو دھو کر رکھ دیا۔ یہ تو مرچوں کی دھونی سے بھی زیادہ دماغ چڑھ جانیوالی دھونی ہے‘۔ جہاں دھونی، وریندر سہواگ اور راہول ڈراوڈ کی بیٹنگ کی، چاہے دکھی دل کے ساتھ ہی، تعریف کی جا رہی ہے، وہیں پاکستانی بولنگ کے بخیے ادھیڑے جا رہے ہیں کہ سہواگ کی دیوانہ وار بلے بازی بھی اس کے سامنے شرما جائے۔ اس تمام تنقید کے پیچھے پاکستانی شائقین کے اکثر جائز، کچھ ناجائز تحفظات چھپے ہیں۔ پاکستانی شائقین حیران ہیں کہ وہ کرکٹ بال جو سابقہ پاکستانی گیند بازوں کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچا کرتی تھی اچانک پاکستانی ہاتھوں میں اتنی بے جان کیوں ہو گئی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں پاکستانی کھلاڑی جھنجلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کبھی رانا نوید الحسن، جن کی ذاتی کارکردگی بہرحال دوسرے گیندبازوں سے کہیں بہتر ہے، بھارتی بلے بازوں پر جملے کستے دکھائی دیتے ہیں، تو کبھی انضمام الحق بلا گھمانے سے بلا پھینکنے کا خطرناک سفر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پورا کرتے ہیں۔ بظاہر بیٹنگ کے دوران ایک واقعہ سے متعلق اس حرکت کا منبع یقیناً بولنگ کے دوران پاکستان ٹیم پر طاری اس بے بسی سے ہے جس کی مثال انڈیا۔پاکستان میچوں میں باوجود سہواگ کی ماضی قریب کی مار دھاڑ کے، ذرا کم ہی ملتی ہے۔ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ون ڈے اننگز کی کم سے کم 300 گیندوں میں کوئی ایک بھی ہوا میں یا وکٹ پر پڑ کر نہ گھومے۔ پاکستانی بولروں سے وابستہ توقعات بتدریج کم ہو رہی ہیں اور صورتحال کچھ کچھ یوں ہی ہے کہ لوگ انتظار کرتے ہیں کہ کب بھارتی بلے باز اپنی باری لے کر پاکستانی بلے بازوں کو کوشش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ساری امیدیں انضمام پر، جو کہ اپنی زندگی کی بہترین فارم میں ہیں، اور دوسرے بلے بازوں سے ہی وابستہ ہیں۔ اس طرح کھیل کا مزہ آدھا رہ جاتا ہے۔ آخر مسئلہ کیا ہے اور اسے کس طرح حل کیا جا سکتا ہے؟ ایک بات جو صاف ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان خود ماضی میں پھنسا ہوا ہے اور اپنے زبردست فاسٹ بولروں کے سحر سے آزاد نہیں ہو پا رہا۔ محمد سمیع ایک اچھے ’ورکر‘ ہوں گے، مگر وہ کوئی عمران خان، وسیم اکرم یا وقار یونس نہیں ہیں۔ بغیر سونگ کے ان کی رفتار ہندوستان کے بلے بازوں کے حق میں جاتی ہے۔ نئی گیند میں کوئی موومنٹ نہیں ہے اور پرانی گیند بھی بائیس گز دور حیلوں اور بہانوں سے شاذو ناذر ہی گھومتی ہے۔ تیز رفتاری کا یہ زعم محمد سمیع تک ہی محدود نہیں ہے۔ تقریباً تمام نوجوان پاکستانی بولرز اس خیال میں مبتلا ہیں کہ وہ کسی نہ کسی رستے وکٹوں کی منزل پا لیں گے۔ وسیم اکرم کو گئے ایک عرصہ ہو گیا ہے لیکن زور ابھی تک بولڈ اور ایل بی ڈبلیو پر ہی ہے۔ اپنے فیلڈروں پر پاکستان کے بولروں کے عدم اعتماد کا قصہ پرانا ہے۔ موجودہ دورے میں کیچوں کا گرنا اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ گیارہ پاکستانی کھلاڑی میدان میں صرف اس لیے موجود رہتے ہیں کہ کرکٹ کا قانون یہ کہتا ہے۔ ورنہ سب کی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فیلڈرز اس اعتماد کو بحال کریں اور بولرز اس حقیقت کو سمجھیں کہ ’تیزی سب کو بھاتی ہے پر سیریز اسی میں جاتی ہے‘۔ وکٹوں کے نشانے لگانے کی بجائے انہیں چاہیئے کہ گیند ہوا میں چھوڑ کر دیکھیں کہ تبدیلی کے کیا امکانات ہیں۔ ورنہ خدشہ ہے مسلسل تیسری بار سہواگ کے ہاتھ چڑھ جانے کا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||