ثقلین مشتاق کو ضائع کردیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اورکوچ انتخاب عالم کے خیال میں اگر ثقلین مشتاق کو صحیح طریقے سے ہینڈل کیا جاتا تو وہ آج بھی کامیابی کے ساتھ کھیل رہا ہوتا دوسری جانب وہ دانش کنیریا کا مستقبل روشن دیکھتے ہیں۔ انتخاب عالم جو خود ایک ورلڈ کلاس لیگ اسپنر رہ چکے ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹیم میں ورلڈ کلاس آف اسپنر کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ پاکستان کو ثقلین مشتاق کی شکل میں ورلڈ کلاس آف اسپنر میسرآیا تھا لیکن بدقسمتی سے اسےصحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا وہ دعوے سے کہتے ہیں کہ اسے اگر صحیح طریقے سے ہینڈل کیا جاتا تو وہ ابھی بھی کھیل رہا ہوتا۔ وہ میچ ونر بولر تھا لیکن تھوڑا سائیکی تھا مگر ایسے بہت کم بولر آئے ہیں جو ”دوسرا” گیند کرانے میں کمال مہارت رکھتے ہوں۔ پرسنا، گبز اور النگوتھ بھی گیند کو باہر نکالتے تھے لیکن ثقلین مشتاق ان سے بہتر انداز میں گیند کو لیگ اسپن کی طرح باہر کی طرف نکالتا تھا تاہم اس نے ضرورت سے زیادہ گیندیں باہر نکالنا شروع کردیں جس کے سبب تمام ٹیموں نے اس کی بولنگ پر کام کرتے ہوئے اسے لیگ اسپن کے طور پر کھیلنا شروع کردیا یوں وہ غیرموثر ہوتا چلاگیا اسے کوئی بتانے والا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔ انتخاب علام کا کہنا ہے کہ اس کےعلاوہ اس کے گھٹنوں کی تکلیف اور سرجری نے بھی اس کی کرکٹ کو متاثر کیا۔ انتخاب عالم پاکستانی ٹیم کے نوجوان لیگ اسپنر دانش کنیریا کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ محنتی کرکٹر ہے آسٹریلیا کے دورے میں اس کی کارکردگی بہت اچھی رہی اسے باؤنسی وکٹوں سے بھی مدد ملی۔ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ اسپنرز دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو سینہ سامنے رکھتے ہوئے گیند کراتے ہیں اور دوسرے وہ جن کا ایکشن ترچھا یا سائڈ آن ہوتا ہے۔ وہ لیگ اسپنر زیادہ موثر ہوتے ہیں جو سائیڈ آن ایکشن کے ساتھ بولنگ کرتے ہیں کنیریا اور کمبلے سینہ سامنے رکھتے ہوئے گیند کرتے ہیں کمبلے کے مقابلے میں کنیریا زیادہ اسپن کرتا ہے۔ اسے بہت آگے جانا ہے لیکن اسے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ بھارت کا یہ دورہ اس کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کیونکہ پاک بھارت کرکٹ آسان نہیں ہوتی۔انہیں یقین ہے کہ وہ اس دورے کے تجربات سے بڑا بولر بن کر سامنے آئے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||