پاکستان کے لیے آخری موقع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمشید پور کے کینن اسٹیڈیم میں کل کا میچ پاکستان کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ لگاتار تیسری شکست کی صورت میں اس کے لیے سیریز جیتےکے باقی ماندہ امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔ اگرچہ ابھی میچ کے لیے ٹیم کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن نائب کپتان یونس خان نے اشارہ دیا ہے کہ لیگ اسپنر دانش کنیریا کو کھلایا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ صرف ایک اشارہ ہی تھا اور حتمی فیصلہ آج رات کو ٹیم میٹنگ میں کیا جائے گا۔ یونس خان نے کہا کہ ’ اگر دانش کھیلتا ہے تو اس طرح کا بولر ہے کہ وہ ہمارے لیے بہت اہم ثابت ہوگا۔ اس نے اب تک جتنے بھی ون ڈے کھیلے ہیں، ان میں بہت اچھی بولنگ کی ہے۔ لیگ اسپنر کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔‘ پہلے دونوں میچوں کی طرح کل کے میچ کے لیے بھی جو وکٹ تیار کی گئی ہے وہ بالکل بے جان ہے اور گراؤنڈ کے کیوریٹر کے مطابق کم سے کم اس میچ کا فیصلہ صرف ٹاس میں ہار جیت سے نہیں ہوگا کیونکہ وکٹ پورے دن ایک سا کھیلے گی۔ وشاکاپٹنم کی طرح آج بھی دونوں ٹیموں نے پریس سے بات کرنے کی ذمہ داری اپنے نائب کپتانوں پر چھوڑ دی تھی۔ کل کی وکٹ کیسا کھیلے گی اور ٹاس کی کتنی اہمیت ہوگی، یہ پوچھے جانےپر راہول ڈراوڈ نے کہا کہ ٹاس بہت بڑا کردار تو ادا نہیں کرے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر پہلے بیٹنگ کر کے آپ ایک بڑا اسکور بنا دیں، تو دوسری ٹیم پر بہت دباؤ پڑ جاتا ہے۔ یونس خان نے بھی کہا کہ آج کل ایک روزہ میچوں میں جس طرح کی وکٹیں بنتی ہیں ، تو کوئی بھی کپتان ایسا نہیں جو پہلے بیٹنگ نہ کرنا چاہے۔ بہرحال، اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے، تو سیریز میں واپسی کے لیے پاکستان کو کل سے بہتر موقع نہیں ملنے والا ہے۔ اس اسٹیڈیم میں پاکستان نےدو میچ کھیلے ہیں اور دونوں جیتے ہیں جبکہ ہندوستان کو سات میں سے پانچ میں شکست کا سامنا رہا ہے۔ تو کل کے میچ میں ہندوستان پر پاکستانی ٹیم کا نہ سہی، ماضی کے ریکارڈ کا دباؤ رہےگا؟ راہول ڈراوڈ کے خیال میں ہر میچ الگ ہوتا ہے۔ اس میں نہ صرف ٹیم نئی ہوتی ہے بلکہ حالات بھی نئے ہوتے ہیں لہذا ماضی کے ریکارڈ سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ انضمام یوں تو نہ میچ ہی جیت رہے ہیں اور نہ ہی ٹاس، لیکن یہ جان کر انہیں خوشی ہوگی کہ کینن اسٹیڈیم میں پانچ مرتبہ بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں کامیاب ہوئی ہیں۔ لہذا وہ کل ٹاس ہار بھی جائیں تو کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں۔ یونس خان پوری طری فٹ ہیں اور یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔ لیکن ساتھ ہی بری خبر یہ ہے کہ درجہ حرارت چالیس ڈگری سنٹی گریڈ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب تقریباً پچاسی فیصد کےآس پاس رہے گا۔ یہ بھی امکان ہے کہ دوپہر میں تھوڑی دیر کے لیے بارش ہو جائے۔ یہ سب باتیں تو اپنی جگہ، بات گھوم پھر کر ویرندر سہواگ پر آ رکتی ہے۔ کل کے میچ کا فیصلہ بھی اسی بنیاد پر ہوگا کہ پاکستانی بولرز سہواگ کو کس حد تک قابو میں کر پاتے ہیں۔ جمشیدپور میں بہت جوش و خروش ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اپنے ہیروز کو دیکھنے کے لئے ہر وقت ٹیموں کے ہوٹل کے باہر کھڑے رہتے ہیں۔ اسٹیڈیم میں یوں تو سترہ ہزار شائقین کی گنجائش ہے، لیکن لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے عارضی اسٹینڈ بھی بنائے گئے ہیں جن میں چھ ہزار شائقین بیٹھ سکیں گے۔ سکیورٹی کا انتظام انتہائی سخت ہے اور اسٹیڈیم میں پولیس کی اتنی نفری تعینات ہے کہ میچ دیکھنے کے لیے لوگ نہ بھی آئے تو پھر بھی تماشائیوں کی کمی محسوس نہیں ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||