کولکتہ میچ کے لیے کوٹری میں جوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بڑے شہروں کے بعد اب میچ پر جوئے کا دھندہ چھوٹے شہروں میں بھی ہونے لگا ہے- پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے کولکتہ میچ پر حیدرآباد کے قریب کوٹری کے مقام پر ایک فلیٹ سے میچ پر جوئے کا دھندہ کرنے والے گروہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے چھاپہ مار کر کولکتہ کرکٹ میچ کے لیے جوا اور بکنگ کرنے والے تیرہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اور ان کے قبضے سےچھ کمپیوٹر، ٹیلی ویژن، ٹیلی فون سیٹ متعدد موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک کا سامان برآمد کر لیا ہے۔ چند ماہ قبل پولیس نے چھاپہ مار کر جامشورو جیسے چھوٹے علاقے سے ایک گروہ کو گرفتار کیا تھا جو نہ عرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک بھی بکنگ کرتا تھا۔ ملزمان کے خلاف جوا کھیلنے کے الزام میں مقدمہ درج کرکے جمعرات کے روز مقامی عدالت میں چالان پیش کردیا گیا ہے۔ کوٹری تھانہ کے بڑے منشی ( ہیڈ محرر) ولی محمد جتوئی نے بتایا کہ یہ لوگ ٹیلیفون کے ذریعے سندھ بھر سے بکنگ کرتے تھے اور اس کام کے لئے انٹرنیٹ بھی استعمال کرتے تھے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ یہ اندازہ کرنا مشکل ہوگا کہ کتنے لوگوں نے میچ پر جوئے کے لئے بکنگ کرائی تھی اور کتنی رقم داؤ پر لگائی گئی تھی- ان کا کہنا ہے کہ اس کے لئے تفصیلی تفتیش کی ضروت ہوتی ہے۔ لیکن جوا ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں بہ آسانی ضمانت ہو جاتی ہے اور پولیس کو تفتیش کا موقع ہی نہیں ملتا- واضح رہے کہ پاکستان میں میچ فکسنگ اور تاش کے ذریعے جوا کھیلنے والے دونوں قسم کے جرائم کا ایک ہی قانون یعنی جوا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے جس میں گرفتار شدگان کو شخصی ضمانت پر بھی رہا کیا جا سکتا ہے- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||