BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 March, 2005, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیلڈنگ بہتر کرنی ہوگی: انضمام

انضمام
اس ڈرا سے آنے والے میچوں کے لیے ٹیم کا مورال خاصا بلند ہوا ہے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کے چہرے کا اطمینان بےجا نہیں ہے۔ ان کی ٹیم موہالی ٹیسٹ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگلے میچوں میں ٹیم کی کارکردگی اسی صورت میں مزید نکھر کر سامنے آئے گی جب اس کی فیلڈنگ اور کیچنگ بہتر ہوگی۔

انضمام الحق نے کہا کہ فیلڈنگ کے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ چوتھے دن چھ وکٹیں گر جانے سے انہیں میچ بچنے کی بہت زیادہ امید نہیں تھی لیکن یہ خیال ضرور تھا کہ اگر عبدالرزاق اور کامران اکمل ذمہ داری سے کھیلتے رہے تو میچ بچایا جاسکتا ہے۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اس ڈرا سے آنے والے میچوں کے لیے ٹیم کا مورال خاصا بلند ہوا ہے۔ دس رنز پر تین وکٹیں گرجانے کے بعد میچ بچانا آسان نہیں ہوتا لیکن عبدالرزاق اور کامران اکمل نے انتہائی شاندار بیٹنگ کی۔ اپنے بولرز کی کارکردگی کو انضمام الحق اطمینان بخش قرار دیتے ہیں۔

اگلے ٹیسٹ میں تبدیلی کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے لیکن اس کا فیصلہ وکٹ دیکھ کر کیا جائے گا۔

بھارتی کپتان سوروگنگولی کہتے ہیں کہ عبدالرزاق اور کامران اکمل نے میچ ہم سے چھین لیا۔ یہ کہنا کہ یہ ٹیل اینڈرز ہیں جو ہم سے آؤٹ نہیں ہوئے ان دونوں کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ گنگولی کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم برا نہیں کھیلی اور نہ ہی ان کے بولرز نے خراب بولنگ کی پاکستانی بیٹسمین ہی اچھا کھیلے۔

گنگولی کہتے ہیں کہ کولکتہ ٹیسٹ ایک نیا میچ ہوگا جس کے لئے ازسرنو حکمت عملی تیار کرنی ہوگی ۔ ہربھجن سنگھ کو ٹیم میں شامل کرنے کے بارے میں گنگولی کا کہنا ہے کہ اس کا فیصلہ وکٹ دیکھ کر کیا جائے گا۔

مین آف دی میچ کامران اکمل کہتے ہیں کہ انہیں یہ ہدایت ملی تھی کہ وکٹ پر دیر تک ٹھہرنا ہے اور وہ اسی حکمت عملی کے تحت کھیلے اور خراب گیندوں کا انتظار کیا۔ کامران کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق نے اننگز کے دوران ان کی رہنمائی کی۔

کامران اکمل نے کہا کہ آسٹریلوی دورے سے ان کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا اب اس اننگز کے بعد ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ کامران کے خیال میں راشد لطیف اور معین خان کے ہوتے ہوئے پاکستانی ٹیم میں واپسی اور جگہ بنانا کبھی بھی آسان نہیں رہا لیکن وہ محنت پر یقین رکھتے ہیں اور پرفارمنس دکھا کر ٹیم میں واپس آئے ہیں اور اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد