وقار یونس سے معاملہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ اور وقار یونس کے درمیان بولنگ کوچ کی تقرری کا معاملہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ جمعرات کو پی سی بی کی ایڈہاک کمیٹی کے اجلاس کےبعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے بی بی سی کو بتایا کہ دورہ بھارت میں وقاریونس کے تجربے سے استفادہ نہیں کیا جاسکے گا کیونکہ وہ طویل مدت کا معاہدہ چاہتے تھے۔ وقاریونس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویئے پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ شہریارخان نے کہا کہ ایڈہاک کمیٹی نے بھی یہ محسوس کیا کہ مختصر مدت کے معاہدے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ قومی اکیڈمی کے لیے طویل مدت کی بنیاد پر کوچ چاہتا ہے لہذا دو تین ہفتے کے بعدجب اکیڈمی کے لیے کوچز کی تقرری کی جائے گی تو اسوقت وقاریونس سے بھی بات کی جائے گی لیکن اس وقت بھی یہ بات پیش نظر رہے گی کہ وہ کتنا معاوضہ چاہتے ہیں۔ فی الحال بھارتی دورے کے لئے ان سے معاملات طے نہیں پاسکے ہیں۔ وقاریونس نے سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ دراصل انہیں کوچ رکھنا ہی نہیں چاہتااس نے جس انداز میں بات شروع کی اور بات ختم کی وہ افسوسناک ہے۔ وقاریونس نے کہا کہ انہیں میڈیا ہی کے ذریعے پتہ چلا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں کوچ بنانا چاہتا ہے جہان تک معاوضے کی بات ہے تو انہوں نے کوئی بات اس سلسلے میں نہیں کی بورڈ ہی اس سلسلے میں کہتا رہا ہے۔ پاکستانی بولرز کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے لیے کوچ باب وولمر نے وقار یونس کو بولنگ کوچ مقرر کرنے کی تجویزپاکستان کرکٹ بورڈ کو پیش کی تھی جو ان دنوں کمنٹری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||