زیادہ اپیلیں متاثر نہیں کرتیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمپائر بلی باؤڈن نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی ایمپائروں نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کی حالیہ سیریز میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی اپیلوں سے متاثر ہو کر فیصلے کیے ہیں۔ وہ پاکستان کے کوچ باب وولمر کے اس الزام کا جواب دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آسٹریلوی ٹیم کی اپیلوں کو زیادہ سنا گیا ہے۔ باب وولمر نے کہا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی اپیلوں کا مقصد ایمپائروں پر زیادہ دباؤ ڈالنا تھا۔ تاہم باؤڈن نے کہا کہ ’باب کو رائے رکھنے کا حق ہے، لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے ایک اچھی ٹیسٹ اورون ڈے سیریز میں شرکت کی ہے‘۔ آسٹریلیا نے پاکستان کو تینوں کے تینوں ٹیسٹ میچوں میں شکست دی ہے اور ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے ساتھ سہہ فریقی ٹورنامنٹ بھی جیت لیا ہے۔ باؤڈن نے اس بات پر اصرار کیا کہ ہوم کراؤڈ اور زیادہ اپیلیں ایمپائر کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ایک کھلاڑی اپیل کرتا ہے کہ گیارہ کھلاڑی، مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں، اور نہ ہی تماشائیوں کی کیونکہ ان کے جوش میں آنے سے پہلے ہی میں اپنا فیصلہ لے چکا ہوتا ہوں‘۔ آسٹریلوی کوچ جان بکانن نے وولمر کے بیان کو ایمپائروں کی بے عزتی کہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||