BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زیادہ اپیلیں متاثر نہیں کرتیں‘
بلی باؤڈن
باؤڈن نے کہا ہے کہ وہ ’اپنے فیصلے خود کرتے ہیں‘
ایمپائر بلی باؤڈن نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی ایمپائروں نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کی حالیہ سیریز میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی اپیلوں سے متاثر ہو کر فیصلے کیے ہیں۔

وہ پاکستان کے کوچ باب وولمر کے اس الزام کا جواب دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آسٹریلوی ٹیم کی اپیلوں کو زیادہ سنا گیا ہے۔

باب وولمر نے کہا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی اپیلوں کا مقصد ایمپائروں پر زیادہ دباؤ ڈالنا تھا۔

تاہم باؤڈن نے کہا کہ ’باب کو رائے رکھنے کا حق ہے، لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے ایک اچھی ٹیسٹ اورون ڈے سیریز میں شرکت کی ہے‘۔

آسٹریلیا نے پاکستان کو تینوں کے تینوں ٹیسٹ میچوں میں شکست دی ہے اور ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے ساتھ سہہ فریقی ٹورنامنٹ بھی جیت لیا ہے۔

باؤڈن نے اس بات پر اصرار کیا کہ ہوم کراؤڈ اور زیادہ اپیلیں ایمپائر کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ایک کھلاڑی اپیل کرتا ہے کہ گیارہ کھلاڑی، مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں، اور نہ ہی تماشائیوں کی کیونکہ ان کے جوش میں آنے سے پہلے ہی میں اپنا فیصلہ لے چکا ہوتا ہوں‘۔

آسٹریلوی کوچ جان بکانن نے وولمر کے بیان کو ایمپائروں کی بے عزتی کہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد