BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 January, 2005, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش کی پہلی ٹیسٹ فتح
بنگلہ دیشی کھلاڑی
بنگلہ دیش کے کھلاڑی ٹیسٹ میں پہلی فتح پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ حاصل کرنے کے چار سال بعد زمبابوے کے خلاف پہلی فتح حاصل کی ہے۔

بنگلہ دیش کو ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی فتح کے لیے پینتیس ٹیسٹ تک انتظار کرنا پڑا۔

اس سے پہلے ہونے والے چونتیس ٹیسٹوں میں سے اکتیس ٹیسٹوں میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ تین برابری پر ختم ہوئے۔

بنگلہ دیش میں پہلی فتح پر ملک میں جشن منایا جا رہا ہے۔فاسٹ بولر مشرفی مرتضی نے جوں زمبابوے کے کھلاڑی چگنبورہ کو آؤٹ کیا تو اس کے ساتھ ہی سٹیڈیم کے باہر ہزاروں لوگوں نے خوشی سے نعرے لگانے شروع کر دیئےاور شہر کی سڑکوں پر خوشیں منانی شروع کر دی۔

چٹاگانگ میں ہونے والے میچ میں بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 488 رنز بنائے جس میں حبیب البشر نے چورانوے رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ راجن صالح نےاننانوے رنز کی مفید اننگز کھیلی۔

زمبابوے کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں تین سو بارہ رنز بنانے میں کامیاب ہوئی جس میں کپتان تاتیندا تیبو کے شاندار بانوے رنز بھی شامل تھے۔ زمبابوے کے پانچ کھلاڑی چھیاسی رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے۔

بنگلہ دیش نےدوسری اننگز میں 204 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کر دی اور زمبابوے کو جیتنے کے لیے 381 رنز کا حدف دیا۔

زمبابوے اپنی دوسری اننگز میں صرف 154 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح بنگلہ دیش نے 226 رنز سے فتح حاصل کر لی۔

بنگلہ دیش کی فتح میں سپنر انعام الحق جونیئر نے اہم کردار ادا کیا اور دوسری اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد