قصور وار کون،بنگلہ دیش یا آئی سی سی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کی خوش قسمتی کہ اس کی مسلسل ناکامیوں کے آگے بند باندھنے کے لئے بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیم اس کے سامنے آگئی ۔ گریم اسمتھ نے نو وکٹوں کی جیت پر یقینا سکون کا سانس لیا ہوگا لیکن دوسری جانب ڈیوڈ واٹمور کی پریشانی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ بنگلہ دیشی ٹیم کو94 میں سے87 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس کے طور طریقے بالکل نہیں بدلے اور وہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا حق ادا کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کے خیال میں جنوبی افریقہ کے خلاف93 رنز پر بنگلہ دیش کے آؤٹ ہوجانے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی ہے۔ قصور بنگلہ دیش کا نہیں بلکہ آئی سی سی کا ہے جس نے وقت سے پہلے ہی اسے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا استحقاق دے دیا۔ راشد لطیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بنگلہ دیش کو کس بنیاد پر ٹیسٹ رکنیت دی گئی ان کے خیال میں بنگلہ دیش کے بجائے کینیا کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی پہلے حقدار بنتی تھی۔ بنگلہ دیشی ٹیم پہلے دن جہاں تھی وہیں ہے اس میں کوئی غیرمعمولی بہتری نہیں آئی ہے اس کے پاس اب نئے کھلاڑی نہیں ہیں جو ٹیم میں آکر انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضے پورے کرسکیں۔ کینیا کو اگر ٹیسٹ رکنیت مل جاتی تو وہ اب تک بہتر ٹیم کے طور پر سامنے ہوتی اب اسے ٹیسٹ رکنیت دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی کارکردگی میں ببہتر لانے میں مزید چند برس انتظار کیا جائے۔ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش سے ٹیسٹ حق واپس لینا درست نہیں ہوگا بلکہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس قسم کے جلدی بازی پر مبنی فیصلے نہ ہوں۔راشد لطیف یہ بھی کہتے ہیں کہ کینیا بنگلہ دیش اور چند ایک چھوٹی ٹیموں کے میچز ہونے چاہئیں۔ راشد لطیف آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فارمیٹ سے بھی مطمئن نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر دو سال بعد ہونے والے اس اہم ٹورنامنٹ میں کرکٹ کا معیار بلند رکھنے اور شائقین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے چھ چھ ٹیموں کے دو گروپ رکھنے چاہیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||