| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حبیب البشر: ہاری فوج کا سپاہی
تحریر: عبدالرشید شکور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی پاکستان کے خلاف بہتر کارکردگی سے ان کے شائقین کی مایوسی میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور حالیہ ٹیسٹ میچوں کے دوران انہیں منہ چھپانے کی ضرورت نہیں۔ بنگلہ دیش کے ایک سینیئر صحافی کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں ’بے بی‘ ٹیم کی بدلی ہوئی کارکردگی میں جہاں نئے کوچ ڈیو واٹمور کی ’پروفیشنل سوچ‘ کا عمل دخل نمایاں نظر آتا ہے وہاں بلے بازی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے حبیب البشر کی مستقل مزاجی کا عمل دخل بھی نمایاں ہے جو ہاری ہوئی فوج کے بہادر سپاہی کی طرح حریف ٹیموں کے ورلڈ کلاس بولروں کا مقابلہ اعتماد اور حوصلہ مندی سے کررہے ہیں۔ حبیب البشر کو جن کی ٹیسٹ کرکٹ میں آمد میڈیا کے شدید ردعمل کے نتیجے میں ممکن ہو ئی ہے، سلیکٹرز نے انیس سو ننانوے کے عالمی کپ کے ساتھہ ساتھ انہیں اپنے ملک کے اولین ٹیسٹ میں بھی نظرانداز کردیا گیا تھا لیکن میڈیا کے پرزور مطالبے پر کرکٹ بورڈ کے صدر صابر حسین چوہدری نے مداخلت کرتے ہوئے ٹیم میں ان کی شمولیت یقینی بنائی جس کے بعد سے انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ان کی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اب تک بنگلہ دیش کی ٹیسٹ میچوں میں سب سے تیز رن بنانے والے بلے باز ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک بنگلہ دیش کی دس سینچر یارٹنرشپز میں سے آٹھ میں حبیب البشر شریک رہے ہیں۔
مقامی کوچ مشیر الرحمٰن کی جوہر شناس نگاہوں نے ان میں آگے بڑھنے اور خود کو منوانے کی لگن دیکھی اور وہ کلب کی سطح پر ان کے ساتھ انتھک محنت کرتے ہوئے جلد ہی بنگلہ دیش کی ایک روزہ قومی ٹیم میں اپنی جگہ بنانےمیں کامیاب ہوگئے۔ تاہم انیس سو پچانوے میں شارجہ میں ہونے والے ایشیا کپ کے بعد ٹیم سے نکالےجانے کے بعد وہ انیس ستانوے کے ایشیا کپ میں واپس آئے۔ اس کے بعد انہوں نے نیروبی میں ہونے والی سہ فریقی ایک روزہ سیریز میں زمبابوے کے خلاف عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرکے اپنا اعتماد بحال کر لیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی بیٹنگ میں جارحیت کا عنصر غالب ہے اور وہ ٹیسٹ میں بھی ایک روزہ ہی کی طرح کھیلتے ہیں جس کی وجہ سے کبھی کبھی اپنی وکٹ جلدی بھی گنوا دیتے ہیں۔ حبیب البشر کا کہنا ہے کہ یہ ان کا اپنا مخصوص انداز ہے اور انہیں پل اور ہک کرنے میں بہت مزا آتا ہے لیکن انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے۔ شمن کے عرف سے جانے جانے والے حبیب البشر ٹیم کے چند پڑھے لکھے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ بھارت کے اظہرالدین ان کے آئیڈیل کرکٹر رہے ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ ان کی دونوں سنچریوں کے موقعہ پر یہ دونوں ان کے ہمراہ تھے جسے وہ اپنی خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ شاندار اور جارحانہ بلے بازی کے باوجود انساری کا پیکر ہیں اور مسکراہٹ ہر وقت ان کے چہرے کو سجائے رکھتی ہے۔ دنیا بھر کے صف اول کے کرکٹر ان کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ بنگلہ دیشی سلیکٹر اطہر علی خان کے خیال میں حبیب البشر اپنے ملک کی کرکٹ کا پہلا سپر سٹار ہے اور اگر اس جیسے ایک دو بولر بھی ٹیم کو مل جائیں تو بنگلہ دیش کسی بھی حریف کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |