پاکستانی اسکواش کی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اسکواش فیڈریشن نے برٹش اوپن جونیئر میں حصہ لینے والے تین کھلاڑیوں کی قومی کیمپ سے غیرحاضری کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کیمپ برٹش اوپن جونیئرکی تیاری کے لئے اسلام آباد میں جاری ہے جس کی نگرانی قومی جونیئر کوچ رحمت خان کررہے ہیں۔ کیمپ میں بارہ کھلاڑی شامل ہیں لیکن تین کھلاڑیوں فرحان محبوب ، وقار محبوب اور دانش اطلس نے کیمپ میں شمو لیت اختیار نہیں کی ہے، انہیں 27 نومبر کو کیمپ میں رپورٹ کرنا تھا۔ ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ پشاور میں سابق عالمی چیمپئن جان شیرخان کی نگرانی میں تربیت حاصل کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فرحان محبوب اور وقار محبوب جان شیر خان کے بھانجے اور دانش اطلس ان کے بھتیجے ہیں۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن کے سینئر نائب صدر ائرمارشل راشد کلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ صورتحال ان کے علم میں ہے اور فیڈریشن کی ایک کمیٹی اس بارے میں سات دسمبر تک فیصلہ کرے گی۔ ائرمارشل راشد کلیم نےکہا کہ یہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کی کا معاملہ ہے جس پر یقینی طور پر ایکشن لیا جائے گا۔ ماضی میں بھی ایسا متعدد بار ہوچکا ہے کہ سینئیر کھلاڑیوں نے کوچ رحمت خان کی نگرانی میں تربیت حاصل کرنے سے انکار کردیا ہو لیکن پاکستان اسکواش فیڈریشن کوئی قدم اٹھانے میں ناکام رہی۔ اب جبکہ پاکستان اسکواش فیڈریشن نے رحمت خان کو جونیئرکھلاڑیوں کی کوچنگ کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے چند کھلاڑیوں کا قومی کیمپ میں نہ آنا پاکستان اسکواش فیڈریشن کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ مبصرین کو اس بات پر حیرانگی ہے کہ جان شیرخان نے یکایک کوچنگ کیسے شروع کردی جبکہ انہوں نے ماضی میں کبھی بھی کسی نوعمر کھلاڑی یہاں تک کہ اپنے بھانجے امجد خان کی رہنمائی نہیں کی۔ مبصرین کے بقول اب وہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کے متوازی کیمپ لگاکر کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اگر رحمت خان کی کوچنگ میں کوئی خامی ہوتی اور وہ مطلوبہ نتائج نہ دے رہے ہوتے تو یہ بات سمجھ میں آتی کہ کھلاڑی ان کی کوچنگ سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ کسی ورلڈ کلاس کھلاڑی کے تجربات سے استفادے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ حق اب بھی انہیں حاصل ہے لیکن کیمپ میں نہ آنا ڈسپلن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ جہاں تک رحمت خان کا تعلق ہے تو ان کی کوچنگ میں پاکستان نے مسلسل دو بار ورلڈ جونیئر ٹیم ٹائٹل جیتا ہےاور تین سال سے نوجوان کھلاڑی برٹش اوپن جونیئر چیمپئن شپ میں اچھے نتائج دے رہے ہیں۔ سابق عالمی چیمپئن جہانگیرخان نے جو اس وقت ورلڈاسکواش فیڈریشن کے صدر ہیں اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کو ڈسپلن کو یقینی بنانے کے لئے سخت قدم اٹھانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کا اپنی بات منوانا خود ان کے لئے نقصان دہ ہے۔ جہانگیرخان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی ورلڈ اوپن اور برٹش اوپن کے مین راؤنڈ تک نہیں پہنچ پارہے اور کوالیفائنگ راؤنڈز میں ہی باہر ہوجاتے ہیں۔ اس سال برٹش اوپن میں منصور زمان اور شاہد زمان پہلے ہی راؤنڈ میں ہارگئے جبکہ قطر میں ہونے والی ورلڈ اوپن میں منصور زمان، شاہد زمان اور فرخ زمان میں سے کوئی بھی کوالیفائنگ راؤنڈ سے مین راؤنڈ میں نہ آسکا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||