BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2003, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ورلڈ اوپن اسکواش کون جیتے گا؟

ڈیوڈ پامر
آسٹریلیا کے ڈیوڈ پامر

پاکستان اسکواش فیڈریشن کو توقع ہے کہ لاہور کے پرانےائرپورٹ کے ڈپارچر لاؤنج میں نصب اسکواش کورٹ سے پاکستان اسکواش کو ترقی اور فروغ کی شکل میں اونچی اڑان ملے گی۔

یہ فور وال گلاس کورٹ یا شیشے کا گھر چودہ سے اکیس دسمبر تک ہونے والی ورلڈ اوپن کا میزبان ہے۔ پاکستان میں سن انیس سو چوراسی،ترانوے اور چھیانوے کے بعد چوتھی مرتبہ اسکواش کے عالمی مقابلے کا انعقاد ہورہا ہے جس میں آسٹریلیا کے ڈیوڈ پامر عالمی اعزاز کا دفاع کریں گے۔

گزشتہ سال بیلجیئم کے شہر اینٹورپ میں منعقدہ ورلڈ اوپن کے فائنل میں انہوں نے اسکاٹ لینڈ کے جان وائٹ کو شکست دی تھی۔ پامر کو جو برٹش اوپن چیمپئن بھی ہیں، لاہور میں اعزاز کے دفاع کے لئے عالمی نمبر دو جان وائٹ کے علاوہ عالمی نمبر ایک انگلینڈ کے پیٹر نکول کے زبردست چیلنج کا سامنا ہوگا۔

لیکن قطر کلاسک میں نک میتھیو کے ہاتھوں چونکادینے والی شکست کے بعد ورلڈ ٹائیٹل کو دوبارہ اپنے نام کرانا پامر کے لئے ناممکن نہ سہی لیکن مشکل ضرور ہوگا اور اگر وہ عالمی اعزاز کے دفاع میں کامیاب ہوگئے تو یہ اس لئے بھی کسی کارنامے سے کم نہ ہوگا کہ انیس سو چھیانوے کے بعد سے کوئی بھی کھلاڑی لگاتار دو سال ورلڈ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

آخری کھلاڑی جان شیرخان تھے جنہوں نےانیس سو نواسی اور نوے میں لگاتار دو مرتبہ اور پھر انیس سو بانوے سے چھیانوے تک لگاتار پانچ سال ورلڈ اوپن جیتا جس کے بعد ہونے والے ہرورلڈ اوپن میں نیا چیمپئن سامنے آتا رہا ہے۔

لاہور میں پیٹرنکول اور جان وائٹ کے لئے بھی کامیابی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ خصوصا پیٹر نکول کے لئے جو اس سال کریم درویش ، عمر البرولوسی ، انتھونی رکٹس اور لی بکل سے غیرمتوقع طور پر شکست کے زخم کھاچکے ہیں اور انہیں کھویا ہوا عالمی اعزاز دوبارہ حاصل کرنے اور اپنی عالمی نمبر ایک کی پوزیشن برقرار رکھنے کے لئے بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پیٹرنکول انیس سو ستانوے اور اٹھانوے میں ورلڈ اوپن کے فائنل راڈنی آئلز اور جوناتھن پاور سے ہارنے کے بعد انیس سو ننانوے میں ورلڈ چیمپئن بنے تھے لیکن اسوقت وہ جیت اور ہار کی ملی جلی کیفیت سے دوچار ہیں۔

قطرکلاسک میں لی بکل کے ہاتھوں غیرمتوقع شکست کے بعد ورلڈ اوپن میں اپنے اعتماد کو مجتمع کرتے ہوئے بہترین پرفارمنس دینا پیٹرنکول کے لئے کڑا امتحان ہوگا۔

قطر کلاسک میں پیٹرنکول کی لی بکل کے ہاتھوں شکست کے بعد جان وائٹ کے لئے عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان ہونے کا اچھا موقع تھا لیکن فائنل میں وہ بھی لی بکل کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوگئے۔ اس سال جان وائٹ کی کارکردگی اچھی رہی ہے اور وہ روایتی حریفوں پیٹرنکول اور جوناتھن پاور کی جانب میڈیا کی بھرپور توجہ سے نظریں بچاتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور عالمی نمبر ایک بننے کے قریب آچکے ہیں۔

ایک اور خطرناک کھلاڑی کینیڈا کے جوناتھن پاور جو ورلڈ ٹائٹل کے لئے فیورٹ سمجھے جارہے تھے، قطر کلاسک میں دائیں ہاتھ کی انگلی میں فریکچر ہوجانے کے سبب ورلڈ اوپن سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ جوناتھن پاور انیس سو اٹھانوے کے ورلڈ چیمپئن ہیں اور اس سال سرکٹ میں ان کی کارکردگی دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ اچھی رہی ہے۔ لیکن ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اہم مواقع پر وہ فٹنس مسائل سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔

جوناتھن پاور کے نہ ہونے سے ورلڈ اوپن کے ٹائٹل کی دوڑ اب بظاہر پیٹرنکول، جان وائٹ اور ڈیوڈ پامر کے درمیان نظر آرہی ہے ۔

دنیائے اسکواش کے صف اول کے کھلاڑیوں کی موجودگی میں پاکستان کے کسی کھلاڑی سے عالمی اعزاز کے حصول کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی ابھی تک عالمی رینکنگ کے ابتدائی دس کھلاڑیوں میں سے کسی کو بھی ہرانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

منصور زمان اگرچہ ورلڈ نمبر سولہ ہیں لیکن ان کی رینکنگ پاکستان میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹس کے چند اچھے نتائج کی مرہون منت ہے۔ ملک سے باہر وہ ابھی تک قابل ذکر کارکردگی کامظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ قطر کلاسک میں وہ مایوس کن انداز میں پہلے ہی راؤنڈ میں کوالیفائر کھلاڑی فن لینڈ کے اولی ٹومی نن سے ہارگئے اس سے قبل ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ میں بھی وہ اہم میچوں میں پاکستان کو جیت سے ہمکنار کرنے میں ناکام رہے اور اسے نویں پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔

شاہد زمان دوسرے سینیئر کھلاڑی ہیں جنہوں نے تین سال قبل چند حوصلہ افزا نتائج دیئے لیکن پھر ان کا کھیل تنزلی کا شکار ہوتا چلا گیا۔ ان کے بے حد اصرار پر پاکستان اسکواش فیڈریشن نے انہیں اپنا کھیل بہتر کرنے کے لئے انگلینڈ بھیجا لیکن اسوقت شاہد زمان کسی ٹورنامنٹ کا کوالیفائنگ مرحلہ بھی عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

اس کے برعکس پاکستان کے نوجوان کھلاڑی رحمت خان کی نگرانی میں اچھے نتائج دے رہے ہیں جس کی دو بڑی مثالیں پاکستان کا ورلڈ جونیئر ٹیم ٹائیٹل اور برٹش اوپن جونئیر ٹائیٹل دو عشروں کے بعد جیتنا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کو ان نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلنے کے بھرپور مواقع دیتے ہوئے پروفیشنل مقابلوں میں سامنے لانا چاہیئے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

پاکستان میں ہونے والی ورلڈ اوپن میں بیس سے زائد ممالک کے کھلاڑیوں کی شرکت موجودہ حالات میں پاکستان کرکٹ کے ساتھ ہونے والے سنگین مذاق کے تناظر میں دنیا کے لئے ایک بھرپور پیغام بھی ہے کہ پاکستان کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کے لئے محفوظ مقام ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد