پاکستان میں سہ فریقی ون ڈے سیریز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھوٹے قد کے ٹالینڈا ٹائبو کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کے سب سے کم عمر کپتان ہونے کا اعزاز رکھنے والے ٹائبو کی قیادت میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم جمعرات کو ملتان میں سہ فریقی ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم کے مدمقابل ہے۔اس سیریز کی تیسری ٹیم سری لنکا ہے۔ زمبابوے کی کرکٹ اسوقت اپنے اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔ سفید فام کھلاڑیوں کی بغاوت اور سیاہ فاموں پر نسلی تعصب کے الزام کے بعد آئی سی سی نے زمبابوے کی ٹیسٹ رکنیت معطل کردی ہے اور دو رکنی کمیٹی اس تمام صورتحال کی تحقیقات بھی جمعرات سے شروع کرنے والی ہے۔ لیکن ٹائبو اس تمام صورتحال سے خود کو دور رکھتے ہوئے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس سیریز میں پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں پر دباؤ ہوگا لیکن وہ اس بات کی کوشش ضرور کریں گے کہ آسان حریف ثابت نہ ہوں۔ زمبابوے کی کرکٹ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ٹائبو کا کہنا ہے کہ یہ ان کے قابو سے باہر ہے۔ ٹائبو کو یقین ہے کہ2007 کے ورلڈ کپ میں زمبابوے کی ٹیم بھرپور قوت کے ساتھ سامنے آئے گی۔ زمبابوے کی ٹیم کے ویسٹ انڈین کوچ فل سمنز موجودہ صورتحال سے مایوس نہیں ہیں اور وہ بھی پرامید ہیں کہ ان کے کھلاڑی مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترتے ہوئے حریف ٹیموں کو آسانی سے نہیں جیتنے دیں گے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کہتے ہیں کہ اس سہ فریقی سیریز میں اصل مقابلہ سری لنکا سے ہوگا لیکن زمبابوے کی ٹیم کو آسان نہیں سمجھا جاسکتا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں دو نئے کھلاڑی بیٹسمین بازیدخان اور تیز بولر راؤ افتخار شامل کیے گئے ہیں۔ اس بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انہیں ضرور موقع دیا جائےگا۔ انضمام الحق ٹیم کی موجودہ کارکردگی سے مطمئن ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹیم میں ’فنشنگ‘ کا فقدان ہے۔ اس سال پاکستانی ٹیم کے دورۂ آسٹریلیا کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اس سہ فریقی ون ڈے سیریز میں ایسی وکٹیں بنائی جائیں گی جن پر کھیل کر آسٹریلوی دورے کے لیے مدد مل سکے کیونکہ آسٹریلیا میں وکٹیں تیز ہوتی ہیں۔ پاکستان میں سہ فریقی ون ڈے سیریز کے انعقاد کا یہ دوسرا موقع ہے۔ اس سے قبل95-1994 میں پاکستان، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان سہ فریقی ون ڈے سیریز کھیلی گئی تھی جس کے فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دی تھی۔ 1997ء میں پاکستان نے چار قومی ون ڈے ٹورنامنٹ کی میزبانی کی تھی جس میں پاکستان، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کی ٹیمیں شریک تھیں فائنل میں جنوبی افریقہ نے سری لنکا کو ہرایا تھا۔ پاکستان1987 اور 1996 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کرچکا ہے لیکن اسے دونوں مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جمود کو توڑنے کے لیے اسے اس مرتبہ صرف ایک حریف سری لنکا کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس سہ فریقی سیریز میں ہر ٹیم دوسری ٹیم سے دو دو میچ کھیلے گی جس کے بعد فیصلہ کن مقابلہ 16 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||