امریکہ کرکٹ کی سپرپاور نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کرکٹ ٹیم آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوسرے میچ میں پیر کو عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے مقابل ہوگی۔ جمعہ کوپہلے میچ میں اسے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں210 رنز کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا تھا جس کے بعد عام تاثر یہی ہے کہ ورلڈ چیمپئن آسٹریلوی ٹیم بھی اس کے ساتھ رعایت نہیں کرے گی۔ امریکہ نے شارجہ میں کھیلے گئے چھ قومی ٹورنامنٹ کے ذریعے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور اسے عالمی سیاست کی کرکٹ میں قدم جمانے کے لیے طویل سفر درکار ہے۔ امریکی ٹیم میں اکثریت تارکین وطن کھلاڑیوں کی ہے جن میں قابل ذکر42 سالہ کلیٹن لیمبرٹ ہیں جو ویسٹ انڈیز کی طرف سے ون ڈے اور ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں اگرچہ امریکہ کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی ریکارڈ شکست سے دوچار ہونا پڑا لیکن اس نے ابتدا میں نیوزی لینڈ کی دو وکٹیں حاصل کرکے ہمت دکھائی اور جب یہ خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس کے بیٹسمین نیوزی لینڈ کے پہاڑ جیسے اسکور میں جلد کھوجائیں گے اس نے43 اوورز تک بیٹنگ کرلی اور اس کے اوپنرز نصف سنچری کا عمدہ آغاز دینے بھی کامیاب رہے۔ امریکی ٹیم کے لیے آسٹریلوی کھلاڑی نیوزی لینڈ سے زیادہ سخت جان اور خطرناک ثابت ہونگے۔ رکی پونٹنگ اس میچ کو نیوزی لینڈ کے خِلاف اہم میچ کے لیے تیاری کے طور پر استعمال کرینگے جو جمعرات کو کھیلا جائے گا۔ آسٹریلوی ٹیم ناقابل شکست نہیں ہے لیکن آخر وقت تک مقابلے پر آمادہ رہنے کی عادت کے سبب آسٹریلوی کھلاڑی اہم میچوں میں کھوئی ہوئی گرفت پر دوبارہ قابو پا کر نتیجہ اپنے حق میں کرنے کے فن سے بخوبی آشنا ہیں اور اس بات کو انضمام الحق سے زیادہ بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||