پست حوصلے مگر میچ آسان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی چیمپئنزٹرافی کے گروپ بی کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں اتوار کو ایجبسٹن میں مدمقابل ہورہی ہیں۔اس گروپ کی تیسری ٹیم ویسٹ انڈیز ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کسی ون ڈے ٹورنامنٹ میں فیوریٹ کے طور پر شریک نہیں ہے۔ اس کا سبب کچھ اور نہیں جنوبی افریقی ٹیم کی موجودہ کارکردگی ہے حالانکہ اس کے پاس وہی کھلاڑی ہیں جو اس کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں انہوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ حیران کن ہے۔ نیوزی لینڈ اور سری لنکا میں مسلسل دس ون ڈے انٹرنیشنل ہارنے کے بعد گریم اسمتھ اینڈ کمپنی کے حوصلے پست ہوچکے ہیں۔ گیری کرسٹن اور جونٹی رہوڈز کے متبادل سامنے نہیں آسکے ہیں ایک اور پریشان کن بات اوپنر ہرشل گبز کا مستقل آؤٹ آف فارم ہونا ہے جو گزشتہ بائیس ون ڈے میچوں میں صرف ایک نصف سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی جنوبی افریقہ کی امید ژاک کیلس سے بندھی ہوئی ہے جو ورلڈ کپ کے بعد سے زبردست فارم میں ہیں۔ گروپ بی میں جنوبی افریقی ٹیم بنگلہ دیش کو قابو کرجائے گی تو اسے فیصلہ کن مقابلے میں ویسٹ انڈیز کا سامنا ہوگا وہ بھی اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں تگ ودو کررہی ہے لیکن ون ڈے میں اس کی کارکردگی نسبتًا بہتر رہی ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ میں شریک کیے جانے کا حق ادا نہیں کرسکی ہے اور ویسٹ انڈیز میں اچھی کارکردگی کے بعد ایشیا کپ میں وہ ایک بار پھر پرانی ڈگر پر چل پڑی۔ حبیب البشر کے ان فٹ ہونے کے نتیجے میں قیادت کی ذمہ داری راجن صالح کے سپرد کی گئی ہے۔ ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑی ہیں لیکن اہم مواقع پر توقعات پر پورا نہ اترنے کے سبب وہ کوچ ڈیو واٹمور کی مایوسی بڑھادیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||