مرلی دھرن مایوس ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے سپنر متھیا مرلی دھرن نے کہا ہے کہ انہیں آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم میں اس لیے شامل نہیں کیا گیا ہے کہ ووٹ دینے والے اراکین کا خیال ہے کہ وہ غلط ایکشن سے باؤلنگ کرتے ہیں۔ مرلی دھرن نے گزشتہ آٹھ میچوں میں 17.47 کی شاندار اوسط سے 68 وکٹ حاصل کیے۔ انہوں نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ ’چند افراد مجھے لینا نہیں چاہتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں ٹھیک طریقے سے گیند نہیں کرتا‘۔ مرلی، جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں دنیا میں سب سے زیادہ وکٹ حاصل کیے ہیں، ’ٹیسٹ پلیئر آف دی ایئر‘ کے لیے آخری چار میں سیلیکٹ کر لیے گئے تھے لیکن ورلڈ الیون کے لیے آسٹریلیا کے شین وارن کا ہی انتخاب کیا گیا۔ شین وارن پابندی کی وجہ سے گزشتہ سال صرف چھ ماہ تک کرکٹ کھیل سکے تھے۔ مرلی کا کہنا ہے: ’مجھے حیرت ہے کہ جو شخص سال میں چھ ماہ کرکٹ نہیں کھیلا وہ ٹیم میں آ گیا۔ ’اگر آپ وارن کا پورا کیریئر دیکھیں تو پھر تو ان کو ٹیم میں ہونا چاہیئے لیکن اگر ایک سال کی کارکردگی کو دیکھا جاتا ہے تو انہیں ٹیم میں نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ چھ ماہ تو وہ کرکٹ ہی نہیں کھیلے‘۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایوارڈز کی ضرورت نہیں ہے۔ ’میرے پاس ورلڈ ریکارڈ ہے لیکن مجھے (اس) رات مایوسی ہوئی‘۔ وران کے کھیلنے پر 2003 کے ورلڈ کپ کے دوران ایک ممنوعہ دوا کے استعمال کی وجہ سے 12 ماہ کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔ یہ پابندی اس سال مارچ میں ختم ہوئی تھی۔ ان دونوں سپنروں میں سے وارن پہلے کھلاڑی تھے جو 500 وکٹ حاصل کر سکے لیکن مرلی جلد ہی ان سے آگے نکل آئے۔ اس وقت مرلی نے 91 میچوں میں 532 وکٹ حاصل کیے ہیں جبکہ وارن 112 میچوں میں 527 وکٹ حاصل کر سکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||