پاکستان میچ جیت گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کو6 وکٹوں سے شکست دیدی لیکن یہ جیت اس لیے بے معنی رہی کہ اس کے لیے یہ ٹورنامنٹ ختم ہوگیا اور اتوار کو کھیلے جانے والے فائنل میں بھارت اور سری لنکا مدمقابل ہونگے۔ بنگلہ دیش کی بیٹنگ ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پاکستانی بولرز نے صرف166 رنز پر اس کی بساط لپیٹ دی۔ بین الاقوامی کرکٹ میں بنگلہ دیشی بیٹسمینوں کی جانب سے اسطرح کی مایوس کن کارکردگی کوئی نہیں بات نہیں یہ نظارے اکثر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ پاکستان نے مطلوبہ اسکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 41 اوورز میں پورا کرلیا جس میں شعیب ملک کے48 رنز نمایاں تھے۔ اس ٹورنامنٹ میں اس نوجوان آل راؤنڈر نے9 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسنچریوں کی مدد سے316 رنز بنائے۔ میچ میں کسی قسم کا پریشر نہ ہونے کے باوجود یوسف یوحنا بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور39 رنز بناکر آسان کیچ تھماگئے۔ انہوں نے بنگلہ دیش اور بھارت کے خلاف پچھلے میچوں میں29 اور 29 ہی بنائے تھے جبکہ سری لنکا کے خلاف وہ کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوگئے تھے۔ عمران نذیر نے بھی ایک بار پھر مایوس کیا وہ صرف27 رنز اسکور کرسکے۔ عمران فرحت کے ان فٹ ہونے کے بعد انہیں خود کو منوانے کا اچھا موقع ملا تھا لیکن وہ اس سے قطعاً فائدہ نہ اٹھاسکے۔ بنگلہ دیش کے خلاف پچھلے میچ میں سنچری بنانے والے یاسرحمید محض11 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اسطرح ایک معمولی ہدف تک پہنچنے کے لیے پاکستان ٹیم نے وکٹیں گنوادیں۔ ٹاس بنگلہ دیشی کپتان حبیب البشر نے جیتااور پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن سترہویں اوور تک اس کی چھ وکٹیں صرف75 رنز پرگرچکی تھیں۔ محمد سمیع نے پہلے ہی اوور میں اشرفل کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کردیا لیکن اپنے دوسرے اوور میں محمد سمیع کی حالت بہت بری رہی اور انہوں نے اپنا یہ اوور سترہ گیندوں میں مکمل کیا جس میں سات وائیڈ اور چار نوبال سمیت بائیس رنز دیئے۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کا سب سے طویل اوور تھا اس سے قبل2000ء میں نیروبی میں بنگلہ دیش کے حسیب الحسین نے انگلینڈ کے خلاف 14گیندوں کا اوور کرایا تھا۔ بنگلہ دیش کی بیٹنگ کو بکھیرنے والے طویل قامت شبیراحمد تھے جنہوں نے سات اوورز پر مشتمل پہلے اسپیل میں ہی سولہ رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کرڈالی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||