BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 July, 2004, 06:57 GMT 11:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشیا کرکٹ کپ کا دوسرا مرحلہ

گنگولی اور انضمام
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا فیصلہ کن مرحلہ بدھ سے کولمبو میں شروع ہورہا ہے جس میں پاکستان، بھارت، سری لنکا اوربنگلہ دیش کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

بدھ کو دو میچ کھیلے جارہے ہیں۔ پاکستان ٹیم ڈے اینڈ نائٹ میچ میں میزبان سری لنکا کے مدمقابل ہوگی جبکہ ڈے میچ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلاجائےگا۔

ایشیا کپ چھ ٹیموں کے ساتھ شروع ہوا تھا جن میں سے پہلی بار ون ڈے انٹرنیشنل میں قدم رکھنے والی ہانگ کانگ اور آٹھ سال بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنے والی متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں تجربہ کار حریفوں کی بھینٹ چڑھ کر مقابلے سے باہر ہوگئیں اور اب بڑی ٹیمیں بڑے امتحان سے گزرنے والی ہیں۔

اگرتینوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو وہ ہم پلہ نظرآتی ہیں۔ بھارت کو اس کی مضبوط بیٹنگ لائن کا فائدہ حاصل ہے لیکن متحدہ عرب امارات اور سری لنکا کے خلاف اسکے ٹاپ آرڈر بیٹسمین تگ ودو کرتے دکھائی دیئے۔

دونوں میچوں میں قابل اعتماد راہول ڈراوڈ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار اننگز کھیلیں۔ سری لنکا کے خلاف وہ بھارت کو تقریباً کامیابی سے ہمکنار کرگئے تھے۔

سری لنکا کے خلاف میچ میں کپتان سورو گنگولی کا وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل سے اوپن کرانے کا فیصلہ تنقید کی لپیٹ میں آیا اور تمام ہی مبصرین نے اسے حیرت کی نظرسے دیکھتے ہوئے گنگولی کی بہت بڑی غلطی قرار دیا۔

دوسرے مرحلے کے اہم میچوں میں بھارتی ٹیم سچن تنڈولکر اور وریندرسہواگ سے بڑی اننگز کی توقع کررہی ہے جو پہلے دو میچوں میں قابل ذکر اسکور نہیں کرپائے ہیں۔

لیکن حریف ٹیموں کے لیے درد سر راہول ڈراوڈ ہی ہونگے جو اس وقت غیرمعمولی فارم میں ہیں اور ہر بولنگ اٹیک کے خلاف رنز کے ڈھیرلگارہے ہیں۔ شاید اسی لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ انہیں اصل خطرہ ڈراوڈ سے ہے۔

کپتان سورو گنگولی کو سب سے زیادہ پریشانی اپنے تیز بولر ظہیرخان کے دوبارہ ان فٹ ہوجانے پر ہے۔ یہ لگاتار تیسرا دورہ ہے جس میں وہ ہمسٹرنگ انجری کا شکار ہوگئے ہیں۔ فی الحال وہ سری لنکا کے میچ سے باہر ہوگئے ہیں، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بقیہ میچز بھی نہ کھیل سکیں۔

آف اسپنر ہربھجن سنگھ جو فٹ ہوکر دوبارہ ٹیم میں آئے ہیں پہلے مرحلے کے دونوں میچ میں ٹیم میں نہیں تھے لیکن فیصلہ کن میچوں میں بھارتی ٹیم ان کی بولنگ سے فائدہ اٹھائے گی۔

کپتان انضمام الحق کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی وکٹوں پر280 رنز بھی محفوظ اسکور نہیں وہ حریف ٹیموں کو بڑے اسکور سے روکنے کے لیے چھ بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی بات کرتے ہیں۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے خلاف میچ میں کامیابی سے بھارت کے خلاف میچ میں ان کے حوصلے بلند ہوجائی گے۔

سری لنکا کے کپتان مارون اتاپتو کا کہنا ہے کہ حالیہ آسٹریلوی دورے سے ان کی ٹیم کو بہت فائدہ ہوا ہے وہ بھارت کے خلاف جیت سے خوش لیکن اپنے اسٹار بیٹسمین جے سوریا کی فٹنس سے پریشان ہیں۔

ایشیا کپ کے دوسرے مرحلے میں ہرٹیم ایک دوسرے سے میچ کھیلے گی اور پھر فیصلہ کن مقابلہ یکم اگست کو ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد