پاکستان کی ٹیم مشکلات کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی بھی کپتان کے لئے اس سے زیادہ مایوس کن بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ جس قوت کے بل پر حریف کو زیر کرنے کے بارے میں سوچے وہی اس کا ساتھ نہ دے سکے ۔ راولپنڈی ٹیسٹ میں انضمام الحق کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے کہ شعیب اختر جنہیں پاکستان کی جیت میں ٹرمپ کارڈ میچ ونر اور حوصلہ بڑھانے کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیاگیاتھا پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔ ایسے وقت میں جب ٹیم کو ان کی ضرورت تھی وہ پہلے اس ہاتھ کی تکلیف کے سبب میدان سے باہر چلے گئے جس سے انہیں بولنگ نہیں کرنی تھی بعد میں ہاتھ کی یہ تکلیف کمر کی تکلیف کے طور پر سامنے آئی جس نے پاکستان ٹیم کے رہے سہے حوصلے پست کردیئے اور وہ تیسرے دن شعیب اختر کے بغیر تگ ودو کرتے ہوئے بھارت کو 600 رنز تک پہنچتا دیکھتی رہی جس میں راہول ڈراوڈ کی شاندار ڈبل سنچری قابل ذکر تھی ۔ اس سیریز میں شعیب اختر کا رول ختم ہوگیا جس میں وہ تین ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز میں بولنگ کرتے ہوئے 42 اعشاریہ 14 کی غیرمتاثرکن اوسط سے صرف 7 وکٹیں ہی حاصل کرسکے۔ شعیب اختر کی غیرموجودگی میں کپتان انضمام الحق کومحمد سمیع سے مسلسل 13 اوورز کرانے پڑے جبکہ دانش کنیریا نے بھی میراتھن بولنگ کی لیکن پاکستان کی بولنگ مضبوط اعصاب کے مالک راہول ڈراوڈ کے اعتماد کو متزلزل نہ کرسکی جنہوں نے 270 رنز کی شاندار کریئربیسٹ اننگز کھیلی جس کے لئے وہ بارہ گھنٹے بیس منٹ کریز پر رہے ۔ راہول ڈراوڈ کی یہ ٹیسٹ کرکٹ میں پانچویں ڈبل سنچری ہے۔ انہوں نے 17 میں سے 11 ٹیسٹ سنچریاں بھارت سے باہر بنائی ہیں۔ کپتان سوروگنگولی 77 اور یوراج سنگھ 47 رنز کے ساتھ ڈراوڈ کو اچھی رفاقت دے گئے۔ پاکستان ٹیم نے 376 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسری اننگز شروع کی لیکن کھیل ختم ہونے پر وہ دونوں اوپنرز عمران فرحت اور توفیق عمر سے49 رنز کے اسکور پر محروم ہوچکی تھی ٹیسٹ کے چوتھے دن بھارت کو دوبارہ بیٹنگ کرانے کے لئے میزبان بیٹسمینوں کو 327 رنز بنانے ہیں جس کے لئے کریز پر آنے والے ہر بیٹسمین کو بڑی اننگز کھیلنی ہوگی جو پست حوصلوں میں ناممکن نہ سہی مشکل ضرور نظر آتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||