بھارتی ٹیم‘ تاریخی حفاظتی انتظامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے موقع پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیےگئے ہیں۔ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لئے اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز اور پولیس اہلکاروں کی دو خصوصی ٹیمیں ساۓ کی طرح چوبیس گھنٹے بھارتی سکاڈ کے ساتھ رہیں گی۔ پنجاب کے ایک پولیس افسر نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی پلان کے مطابق بھارتی ٹیم کے دورۂ پاکستان میں سیرو تفریح کا کوئی ذکر نہیں ہے اور امکان ہے کہ بھارتی کھلاڑی اس دوران کھیل کے میدان سے ہوٹل تک ہی محدود رہیں گے۔ پروگرام کے مطابق پاک بھارت کرکٹ سیریز کے کراچی اور پشاور کے دو میچوں کے علاوہ دیگر تمام میچ صوبہ پنجاب میں کھیلے جائیں گے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے ارکان دس مارچ کو بھارت سے لاہور پہنچیں گے تو ساٹھ مسلح اہلکاروں کا دستہ انہیں اپنی حفاظت میں فائیوسٹار ہوٹل لے جاۓ گا جہاں پہلے سے ان کی حفاظت کے لیے ڈھائی سو اہلکار تعینات ہونگے۔ گیارہ مارچ کو وہ لاہور میں ایک پریکٹس میچ کھیلیں گے اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی آئندہ ون ڈے میچ کے لیے سیکیورٹی کی پریکٹس کر لے گی۔ ون ڈے میچ شروع ہونے سے قبل بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ خصوصی تلاشی لے گا ۔ میچ کے موقع پر اڑھائی ہزار اہلکار قذافی سٹیڈیم کے دروازوں پر تعینات ہونگے جبکہ ایک ہزار اہلکار سٹیڈیم کے اندر موجود رہیں گے۔ چار سو سادہ پوش خفیہ نگرانی کریں گے۔ لاہور، ملتان، راولپنڈی اور فیصل آباد میں تین ٹیسٹ اور تین ون ڈے میچوں کے دوران دس کمانڈوز اور بارہ مجاہد پولیس کے اہلکار چوبیس گھنٹے کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ ساتھ رہیں گے تاہم ہر شہر میں محافظ دستوں کے ارکان تبدیل ہوتے رہیں گے۔ لاہور کے ایس پی سیکیورٹی راجہ رفعت نے بتایا کہ ’بھارتی کرکٹ ٹیم اپنے دورے کے دوران صرف کھیل تک محدود رہے گی لیکن اگر ان کے شیڈول میں تبدیلی ہوئی بھی تو خصوصی سیکیورٹی کا انتظام کر لیا جاۓ گا۔‘ میچ کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سٹیڈیم کے گیٹ پر شناختی کارڈ دکھاۓ جانے کے بعد تماشائی کو اندر جانے کی اجازت ملے گی۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ تماشائی کا ٹکٹ اور اصل شناختی کارڈ دیکھ کر کمپیوٹر میں اندراج کیا جاۓ گا جس کے بعد کمپیوٹرائزڈ دروازہ از خود کھلے گا بصورت دیگر دروازہ کھلے گا ہی نہیں۔ پاکستان میں متعین بھارتی ہائی کمیشنر شیو شنکر مینن سے اتوار کو لاہور میں ایک تقریب کے دوران اخبار نویسوں نے پوچھا کہ کیا ان کی حکومت بھارتی کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے کوئی اقدامات کر رہی ہے؟ شیو شنکر مینن نے کہا کہ وہ تو پاکستان میں مہمان ہیں، سیکیورٹی میزبان کا کام ہے اور پاکستانی یقینی طور پر اچھے میزبان ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||