BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 March, 2004, 21:17 GMT 02:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان یا بھارت: بر تری کون حاصل کرے گا

india cricket series
بھارت سے مقابلے کے لئے تیار
اس سال کے اوائل میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پندرہ سال کے بعد اس سال مارچ میں پاکستان کا دورہ کرےگی۔

مزید یہ کہ یہ دورہ ایک ایسی بھارتی ٹیم کرے گی جو جیتنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ صرف بھارتی عوام ہی نہیں جو اپنی ٹیم کے پاکستانی ٹیم کو پاکستان میں شکست دینے کے بارے میں پراعتماد ہیں بلکہ پاکستانی بھی بڑی شدت سے بھارتی کرکٹ ٹیم کی آمد کے منتظر ہیں تاکہ اس سے پرانے حساب چکائے جا سکیں۔

ہرچند اس بات کے اعتراف سے قومی انا کو ٹھیس پہنچنے کا احتمال ہے لیکن ماہرین کا اس بات پر کم و بیش اتفاق ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی کامیابی یقینی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارتی ٹیم کے پہلے چھ بلے باز ایسی باقاعدگی کے ساتھ رنز کا ڈھیر لگائیں گے جس سے ان کی دورۂ آسٹریلیا کی کارکردگی ماند پڑ جائے گی۔

لیکن دوسری طرف ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے بھارتی ٹیم دورۂ آسٹریلیا کی کارکردگی ماضی کی بات ہے۔ پاکستانی ٹیم نہ صرف بھارتی ٹیم سے مقابلے کے لئے پرعزم اور مستعد ہے بلکہ اپنے مضبوط بالنگ اٹیک کے بھروسے پر خاصی پر اعتماد بھی کہ کم ازکم ٹیسٹ میچوں میں وہ بھارتی ٹیم کو شکست دے دے گی۔

بھارتی ٹیم کے نئےدریافت شدہ اعتماد کے بڑی وجہ اس کی دورۂ آسٹریلیا کے آخر میں- ایک روزہ میچوں میں- عمدہ بیٹنگ کارکردگی ہے۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آسٹریلوی تیز بالر بریٹ لی کے فارم میں واپس آتے ہی بھارتی بیٹنگ ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گئی۔ یہی بات پاکستان میں بہت سے لوگوں کی تقویت کا باعث ہے کیونکہ شعیب اختر بریٹ لی سے کسی طرح کم نہیں۔

سن دو ہزار تین کے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف غیر حوصلہ افزاء کارکردگی کے بعد شعیب اختر نے اس سیزن میں بنگلہ دیش، ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

بلندو بانگ دعوے کرنے کے شائق شعیب اختر اس بار محتاط زبان استعمال کر رہے ہیں۔ شعیب کے مطابق یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلہ ہے نہ کہ شعیب اور سچن کے درمیان۔

لیکن جب بھارتی ٹیم یہاں پہنچے گی تو وہ شعیب اختر اور ان کے ساتھی بالر محمد سمیع کو تیار اور منتظر پائے گی۔

لیکن اس میں کلام نہیں کہ شعیب پاکستان کے لئے ترپ کا پتہ ہیں۔ عمران خان اور وسیم اکرم بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ دونوں ٹیموں کے درمیان فرق شعیب اختر ہوں گے۔

لیکن جو بھی ہو موجودہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نوے کی دہائی والی ٹیم نہیں جس کا انحصار چند سپر سٹار کھلاڑیوں پر ہوتا تھا۔ پچھلے ورلڈ کپ کے تلخ تجربے کے بعد پاکستانی ٹیم کی ہیئت ترکیبی میں جو تبدیلیاں آئیں اس کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم میں اب نہ صرف کارکردگی بلکہ کارکردگی میں تسلسل پر زور دیا جاتا ہے اور جس کا اظہار اس سیزن کے نتائج سے بھی ہوا ہے۔

پچھلے ورلڈ کپ کے بعد کے اعداد و شمار کے مطابق اکتیس ایک روزہ میچوں میں سے انیس میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی اور سات ٹیسٹ میچوں میں سے پانچ میں کامیابی ہوئی۔

جاوید میانداد کی کوچ کی حیثیت سے دوبارہ تعیناتی اور انظمام الحق کی کپتان کے طور پر تقرری سے پاکستانی ٹیم کے جذبے بہت بلند ہوئے ہیں۔ جاوید میانداد سے بہتر اور کوئی بھارتی کرکٹ ٹیم کو نہیں جانتا۔ میانداد کا بھارت کے نام پیغام یہ ہے کہ آسٹریلیا کو بھول جائیں اور پاکستان کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔

اگر میانداد ہر وقت چست اور مستعد رہتے ہیں تو انظمام دھیمےمزاج کے ہیں۔ ورلڈ کپ کے بعد چھ ماہ ٹیم سے باہر رہنے کے بعد انظمام بڑی شان سے ٹیم میں واپس آۓ ہیں اور بنگلہ دیش کے خلاف سو رنز بھی بناۓ ہیں۔

انظمام کی شخصیت میں نہ تو عمران خان والا کرشمہ ہے اور نہ ہی ان میں میانداد اور وسیم اکرم جیسا زور ہے، لیکن وہ اپنے انداز میں ایک کپتان کی حیثیت سے اپنا مقام بنا رہے ہیں۔

انظمام یوسف یوحانہ کے ساتھ بھارتی ٹیم کے منتظر ہیں تاکہ کمزور بھارتی بالنگ اٹیک کی پٹائی کی جا سکے۔

پاکستانی اور بھارتی کرکٹ ٹیمیں پوری طرح سے مقابلے کے لئے تیار ہیں۔ یہ مقابلہ کون جیتے گا، اسکے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں، ہاں اس میں شبہ نہیں کہ مقابلہ کانٹے کا ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد