| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا: مشکل ہدف کا سامنا
سڈنی ٹیسٹ میں انیل کمبلے نے عمدہ باؤلنگ کرکے آٹ وکٹ لئے لیکن کپتان سورو گانگولی نےآسٹریلوی ٹیم کو فالو آن کرنے کے لئے نہیں کہا۔ آسٹریلیا سائمن کٹیچ کی سنچری کی بدولت چار سو چوہتر رن بنانے میں کامیاب ہو گیا، لیکن یہ سکور فالو آن سے بچنے کے لئے کافی نہیں تھا۔
سائمن کٹیچ نے ایک سو پچیس رن بنا کر بھارتی فتح کے امکانات کو کافی حد تک کم کر دیا۔ کٹیچ نے جیسن گلسپی کے ساتھ آٹھویں وکٹ کے لئے ایک سو سترہ رن کی شراکت کی۔ گلسپی نے سینتالیس رن بنائے۔ بھارتی کپتان نے آسٹریلیا کو دوبارہ بیٹنگ نہ کروانے کا فیصلہ شاید مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت نےاپنی دوسری اننگز میں دو وکٹ پر دو سوگیارہ رن پر اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور آسٹریلیا کو چار سو تینتالیس رن کا مشکل ہدف دیا ۔ انیل کمبلے نے بہترین بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھیالیس اعشاریہ پانچ اووروں میں ایک سو اکتالیس رنز دے کر آسٹریلیا کے آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ باقی دو وکٹیں عرفان پٹھان نے لیں۔ سوموار کے روز آسٹریلیا نے 342 رنز کے سکور پر اپنی اننگز دوبارہ شروع کی تو اس وقت اسے فالوآن سے بچنے کے لئے 164 رنز درکار تھے۔ بھارتی ٹیم کو کھیل کے آغاز پر ہی ایک کامیابی حاصل ہوئی جب آسٹریلوی بالر بریٹ لی بغیر کوئی رن بنائے انیل کمبلے کی گیند پر چوپڑہ کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ اس کے بعد جیسن گلیسپی کھیلنے کے لئے آئے اور انہوں نے سائمن کاٹیچ کے ساتھ مل کر آسٹریلیا کے سکور میں ایک سو سترہ رنز کا اضافہ کیا۔ اس مرحلے پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ آسٹریلیا کی ٹیم فالو آن سے بچنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن جیسے ہی سائمن کاٹیچ آؤٹ ہوئے، انیل کمبلے کھیل پر دوبارہ چھا گئے اور انہوں نے چار سو چوہتر کے مجموعی سکور پر پوری آسٹریلوی ٹیم کو آؤٹ کر دیا۔ اس سے قبل بھارت نے اپنی پہلی اننگرز میں 705 رنز سات کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔ سچن تندولکر 241 پر ناٹ آؤٹ رہے۔ یہ ان کا انفرادی اور ملک سے باہر کسی بھی بھارتی کھلاڑی کا بہترین سکور ہے۔ تاہم کسی بھارتی کھلاڑی کا سب سے زیادہ سکور 281 رنز ہے جو لکشمن نے بھارت میں آسٹریلیا ہی کے خلاف بنائے تھے۔ آسٹریلیا کی طرف سے سب سے جسٹن لینگر نے بھی سنچری بنائی۔ کیا۔ انہوں نے ایک سو سترہ رنز بنائے۔ سٹیو واہ جو اپنے ٹیسٹ کریئر کا آخری میچ کھیل رہے ہیں چالیس رنز پر آؤٹ ہوئے۔ انہیں عرفان پٹھان نے آؤٹ کیا۔ چار میچوں کی اس سیریز میں اب تک ایک میچ بھارت نے اور ایک آسٹریلیا نے جیتا ہے۔ جبکہ ایک میچ ڈرا ہوگیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||