| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تندولکر کی بڑی اننگز
ہندوستان کے سٹار بیٹسمین سچن تندولکر نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے جا رہے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ میں دو سو بیس رنز بنا کر نہ صرف آسٹریلوی بارلروں کی پٹائی کی بلکہ ان مبصرین کا بھی ’چھکا‘ مارا جنہوں نے انہیں کرکٹ سے ’آؤٹ‘ کر دیا تھا۔ انہوں نے سڈنی میچ کے دوسرے دن 419 گیندوں پر 30 چوکوں کی مدد سے 220 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ یہ ان کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔ اس سے قبل ان کا سب سے زیادہ اسکور 217 تھا جو انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف بنایا تھا۔ دوسرے دن کے کھیل کے اختتام تک ہندوستان نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر کل 650 رنز بنائے۔ دوسرا دن ہندوستانی بلے بازوں کا دن رہا اور پورے دن میں صرف دو وکٹ گرے ۔ پہلا وکٹ وی وی ایس لکشمن کا تھا جو 178 رنز کی ایک خوبصورت اننگز کھیل کر 547 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے بھی یہ ہدف 30 چوکوں کی مدد سے حاصل کیا۔ انہیں گلیسپی نے بولڈ کیا۔ لکشمن کے بعد آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کپتان سارو گنگولی تھے جو صرف سولہ رنز بنانے کے بعد بریٹ لی کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ تندولکر کے ساتھ اس وقت پاتھک پٹیل 45 رنز بنا کر کھیل رہے ہیں۔ ڈبل سنچری بنانے کے بعد تندولکر اب سب زیادہ سنچریاں بنانے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ سنیل گواسکر کا ہے جنہوں نے 125 ٹیسٹ میچوں میں 35 سنچریاں بنائیں۔ دوسرے نمبر پر سٹیو وا ہیں جو 167 ٹیسٹ میچوں میں 32 سنچریاں بنانے کے بعد سڈنی میں اپنا آخری میچ کھیل رہے ہیں۔ تیسرے نمبر پر تندولکر ہیں جو 111 ٹیسٹ میچوں میں 32 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ اور چوتھے نمبر پر آسٹریلیا کے ہی سر ڈونلڈ بریڈ مین ہیں جنہوں نے صرف باون ٹیسٹ میچوں میں 29 سنچریاں بنانے کا شاندار ریکارڈ بنایا۔ یاد رہے کہ 1992 میں بھی سڈنی کے ہی سٹیڈیم میں 148 رنز بنائے تھے اور آؤٹ نہیں ہوئے تھے۔ یہ اب تک ان کا آسٹریلیا کے خلاف سب سے زیادہ اسکور تھا۔ گو کہ یہ میچ ڈرا رہا لیکن جن لوگوں نے اٹھارہ سالہ سچن تندولکر کی اننگز دیکھی تھی وہ ان لوگوں کے ذہنوں پر اب بھی نقش ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||