ڈوپنگ کا الزام، ندال قانونی چارہ جوئی کریں گے

،تصویر کا ذریعہAFP
ٹینس کے سٹار کھلاڑی رافیل ندال فرانس کی اسن سابق وزیر کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ سنہ 2012 میں ندال کی سات ماہ تک ٹینس سے غیر حاضری شاید مثبت ڈوپ ٹیسٹ کا نتیجہ تھی۔
14 بار گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے والے ندال نے کہا ہے کہ وہ صحت اور کھیل کی سابق وزیر روزلن بیشلو کے بیان سے اپ سیٹ ہیں۔
29 سالہ ٹینس سٹار نے کہا کہ وہ ان سبھی لوگوں کے خلاف مقدمہ کریں گے جو ’مستقبل میں اس قسم کی باتیں کریں گے۔‘
انھوں نےکہا کہ ’فرانس کی وزیر کو سنجیدہ ہونا چاہیے۔ یہ وقت ہے ان کے خلاف جانے کا اور ہم ان کے خلاف مقدمہ کرنے جا رہے ہیں۔
’یہ آخری مقدمہ ہوگا۔ میں ان چیزوں سے تھک چکا ہوں۔ میں نے پہلے کئی بار اسے جانے دیا ہے لیکن اب نہیں۔‘
خیال رہے کہ 69 سالہ بیشلو سنہ 2007 سے 2010 کے درمیان سابق صدر سرکوزی کی کابینہ میں وزیر برائے صحت اور کھیل رہ چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA
انھوں نے ماریا شیراپووا کے ڈوپنگ ٹیسٹ پر بات کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے یہ باتیں کہیں۔
فرانسیسی رہنما نے کہا ’جب آپ کسی ٹینس کھلاڑی کو کئی ماہ تک کھیل سے علیحدہ دیکھتے ہیں تو اس کا مطلب ڈوپ کے مثبت آنے پر کنٹرول ہے۔‘
ندال نے اپنے بارے میں اندازہ لگائے جانے پر پہلے ہی کہہ رکھا ہے۔ شیراپووا کے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے اعتراف کے بعد سابق عالمی چیمپین نے کہا تھا: ’میں صاف ستھرا ہوں دوستو۔ مجھے کبھی بھی کچھ غلط کرنے کا لالچ نہیں ہوا۔‘
ندال کبھی بھی ممنوعہ ادویات کی جانچ میں مثبت نہیں آئے لیکن ان کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ادویات لیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
سنہ 2011 مکں سابق فرنچ اوپن چیمپین یانک نواہ نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ سپین کی کھیل میں کامیابی ڈوپنگ کے سبب ہے۔
ایک سال بعد ایک مزاحیہ ٹی وی شو نے نڈال جیسے ایک شخص کو اپنی کار کا ٹینک اپنے پیشاب سے بھرتے ہوئے دکھایاتھا جسے بعد میں پولیس تیز رفتاری کے لیے پکڑتی ہے۔
اس کے بعد سنہ 2013 میں بلجیم کے سابق پیشہ ور کھلاڑی کرسٹوف روکس نے سوال اٹھایا تھا کہ جو شخص سنہ 2012 کے فرنچ اوپن میں چھایا ہوا تھا وہ دو ہفتے بعد ومبلڈن میں زخمی کیسے ہو سکتا ہے۔



