روس سمیت چھ ممالک واڈا کوڈ کی خلاف ورزی کے مرتکب

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti
عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی، واڈا نے قانون کی عدم تعمیل کی بنا پر روس کی اینٹی ڈوپنگ اتھارٹی کو معطل کر دیا ہے۔
روس پر ڈوپنگ کے معاملے میں منظم اور ریاستی نگرانی میں دھوکہ دہی کا الزام ہے اور اس کی قومی ایتھلیٹکس فیڈریشن پر پہلے ہی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت پر عارضی پابندی لگائی جا چکی ہے۔
<link type="page"><caption> ممنوعہ ادویات کا استعمال: ’ایتھلیٹکس ادارہ تحقیق دبا رہا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/08/150816_iaaf_accused_supressing_doping_study_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
اسی ماہ کے اوائل میں واڈا کے غیرجانبدار کمیشن کی ایک رپورٹ سامنے آنے کے بعد سے اس فیصلے کی توقع کی جا رہی تھی۔
اس رپورٹ میں روس پر ’ریاستی سرپرستی میں ڈوپنگ‘ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
واڈا کی رپورٹ میں روسی ڈوپنگ لیبارٹری کے سربراہ پر 1400 خون اور پیشاب کے نمونوں کو تباہ کرنے کے الزام کے بعد انھیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور واڈا نے اُن کی سند بھی منسوخ کر دی ہے۔
کھیلوں کے روسی وزیر وٹالی متکو کا کہنا ہے کہ روسی ایتھلیٹس خود کو اس معاملے میں صاف شفاف ثابت کرنے کے لیے ہر صورت میں تعاون کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
واڈا کی رپورٹ کے معاون مصنف ڈِک پاؤنڈ کا بھی کہنا ہے کہ یہ روسی ایتھلیٹکس اور روس کی اینٹی ڈوپنگ تنظیم کے لیے ’بچوں کا کھیل‘ ہوگا کہ وہ ریو اولمپکس میں شرکت کے لیے وقت پر شرائط کو پورا کر سکیں۔
پاؤنڈ کے مطابق ’میرا خیال نہیں کہ آپ نو ماہ کے عرصے میں یہ روایات ختم کر سکتے ہیں لیکن آپ ایسے کام کا آغاز کر سکتے ہیں جس سے آگے جاکر مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں گے۔‘
تاہم روس ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے قوانین وضوابط کی خلاف ورزی کرنے والا اکیلا ملک نہیں اور اسے ارجنٹینا، بولیویا، یوکرین، انڈورا اور اسرائیل کے ساتھ واڈا کی جانب سے قوانین کی ’عدم تعمیل‘ کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔
واڈا نے برازیل، بیلجیئم، یونان، میکسیکو اور سپین کو بھی ’کڑی نگرانی‘ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر یہ ممالک مارچ 2016 تک معیار پر پورا نہ اترے تو انھیں بھی سخت پابندیوں یا اسی طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
جبکہ کینیا کو اس کے ڈوپنگ کی روک تھام کے طریقوں کی وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ورنہ اسے بھی زیرِ نگرانی ممالک میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
واڈا کے مطابق اگر کینیا کے جوابات ’غیر تسلی بخش‘ ہوئے تو اسے بھی پابندیوں کا سامنا کرنا ہو سکتا ہے۔



