’روس کو ایتھلیٹکس مقابلوں سے معطل کر دیا جائے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
کھیلوں میں ممنوعہ ادویات کے انسداد کے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ روس کو ایتھلیٹکس کے مقابلوں سے معطل کر دینا چاہیے۔
عالمی تنظیم برائے انسداد ممنوعہ ادویات (ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی) نے یہ تجویز اپنے ایک آزاد کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں پیش کی ہے جو ان الزامات کی تحقیق کر رہا تھا کہ روسی کھلاڑیوں نے انسدادِ ممنوعہ ادویات کے افسران کو رشوت دے کر ممنوعہ ادویات استعمال کیں اور ان کے استعمال کے ٹیسٹ کے نتائج پر پردہ ڈالا۔
کمیشن نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ مختلف ممالک کی بین الاقوامی نمائندہ تنظیم آئی اے اے ایف بھی اس معاملے پر پردہ ڈالنے میں ملوث ہے۔
روس نے اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے الزمات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ماسکو میں قومی اینٹی ڈوپنگ سینٹر کے سربراہ نے روسی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ٹیسٹ کے نمونے ضائع کرنے کی الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہ رپورٹ تیار کرنے والے ’بےوقوف‘ ہیں۔
روس کے وزیر کھیل نے کہا کہ روس کو مقابلوں سے خارج کر دینا ڈوپنگ کے مسئلے کا حل نہیں ہے اور تمام ممالک کے تعاون ہی سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ روس اس رپورٹ کا باریکی سے جائزہ لے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے یہ بھی کہا ہے کہ پانچ کھلاڑیوں اور پانچ کوچوں پر عمر بھر کے لیے ممنوعہ ادویات کے حوالے سے پابندی عائد کر دی جائے۔
رپورٹ میں انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار ایتھلیٹکس فیڈریشنز (آئی اے اے ایف) کے اندر ان ’مسلسل ناکامیوں‘ کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی وجہ سے ادارہ انسدادِ ممنوعہ ادویات کے ’موثر‘ پروگرام کے اطلاق میں ناکام ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس کے علاوہ آئی اے اے ایف کے سابق صدر کی سربراہی میں کام کرنے والے کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2012 میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں جو ’رخنا‘ پڑا تھا اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ اس وقت روسی ایتھلیٹوں کے خلاف ’بالکل کوئی کارروائی نہیں کی گئی‘ اور آئی اے اے ایف اور روس کی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے ان کھلاڑیوں کے جو پروفائل جمع کرائے تھے وہ مشکوک تھے۔
پیر کو جنیوا میں منظر عام پر لائی جانے والی اس رپورٹ کی اشاعت سے پہلے آئی اے اے ایف کے صدر لارڈ کوئی کا کہنا تھا کہ آج کل ’ایتھلیٹکس کی دنیا کے تاریک دن‘ ہیں۔‘
اتوار کو بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ ’میرے منتخب ہونے کے محض ایک دن بعد ہی میں نے تنظیم کے معاملات پر نظر ثانی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کر دیا تھا۔ اور صاف ظاہر ہے کہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کی سنگینی کی وجہ سے نظرثانی کے کام کو تیز کر دیا گیا تھا۔
’ میرا مصصم ارادہ ہے کہ وہ اقدامات کیے جائیں جن سے کھیلوں کے معاملات پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو، تاہم ان الزات سے چھٹکارا حاصل کرنے میں بہت وقت لگے گا۔‘



