’ممنوعہ دواؤں کے عام استعمال کے الزامات اعلانِ جنگ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
ایتھلیٹکس کی بین الاقوامی تنظیم آئی اے اے ایف کے نائب صدر لارڈ کو نے کھیلوں میں قوت بخش دواؤں کے عام استعمال کے الزامات کو ’اعلان جنگ‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اس کھیل کی ساکھ کو بچانے کے لیے مل کر’جدوجہد‘ کرنی ہو گی۔
برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے 5000 اتھلیٹکس کے اعداد و شمار شائع کیے ہیں جو اس کھیل میں ’غیر معمولی حد تک دھوکہ دہی‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔
آئی اے اے ایف کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے خون کے نمونوں کے نتائج مثبت نہیں تھے جو کھلاڑیوں میں دواؤں کے استعمال کا ثبوت دی سکیں۔
لارڈ کو نے کہا کہ ’الزامات کے جوابات کی جنگ یہیں سے شروع ہو نی چاہیے۔ یہ میرے کھیل کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ہماری تاریخ میں کبھی ہماری اہلیت اور دیانت پر سوال نہیں اٹھایا گیا جس طرح اب ہم پر دواؤں کے استعمال کا الزام لگایا جا رہا ہے۔‘
سنڈے ٹائمز اور جرمن ریڈیو اے آر ڈی/ڈبلیو آر ڈی نے آئی اے اے ایف کے ڈیٹا بیس سے خفیہ طور پر حاصل کیے گئے خون کے نمونوں نتائج کا تجزیہ کیا۔ خون کے نمونوں کے یہ 12000 نتائج 2001 سے 2012 کے دوران کے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty
برطانوی اور جرمن خبر رساں اداروں کی رپورٹس کا دعویٰ ہے کہ 800 سے زائد ایتھلیٹس کے خون کے نمونوں کے نتائج مشکوک ہیں اور جن پر آئی اے اے ایف نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
ان ایتھلیٹس میں حالیہ اولمپکس اور ورلڈ چیمپئن شپ کے مقابلوں میں تمغے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی ایک تہائی تعداد بھی شامل ہے۔
منگل کو جاری ہونے والے بیان میں آئی اے اے ایف نے کسی بھی قسم کے الزامات سے ’یکسر انکار‘ کیا ہے۔
’مجھے اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ہم پر یہ الزام لگایا جائے گا کہ یا تو ہم غلطیوں پر پردہ ڈال رہے ہیں اور یا پھر بالکل نااہل ہیں۔‘
سپورٹس نیوٹریشنسٹ الینور جونز نے کہا ہے کہ بلڈ ڈوپنگ ایتھلیٹوں میں ان کے جسم میں آکسیجن کی سطح بلند کر دیتی ہے جو کھیل میں ان کی کارکردگی بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔



