’ڈوپنگ ٹیسٹ مثبت آنے والے کسی رعایت کی امید نہ رکھیں‘

بین الاقوامی ایتھلیٹکس میں مشتبہ خون کے نتائج کے انکشاف سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی ایتھلیٹکس میں مشتبہ خون کے نتائج کے انکشاف سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں

بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے صدر کا کہنا ہے کہ اولمپکس میں تمغے جیتنے والوں ڈوپنگ ٹیسٹ مثبت ہونے پر اُن کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

پیر کو ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں اجلاس سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ وہ اینٹی ڈوپنگ کی عالمی ایجنسی کی رپورٹ کے نتائج کے منتظر ہیں۔

بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے صدر تھامس بوش کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر ماہرین نے یہ شک ظاہر کیا ہے کہ سنہ 2001 سے 2012 کے درمیان ہونے والے اولمپکس اور بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل جیتنے والے ایک تہائی ایتھليٹس نے محدود منشیات یا پھر کارکردگی میں اضافہ کرنے والی ادویات کا استعمال کیا تھا۔

برطانوی اخبار دی سنڈے ٹائمز اور جرمنی کے نشریاتی ادارے اے آر ڈی/ ڈبلیو آر ڈی کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات پانچ ہزار کھلاڑیوں کے خون کے 12,000 نمونے کے نتائج کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ شواہد عالمی پیمانے پر ہونے والے ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں ’غیر معمولی دھوکہ دہی‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔ بی بی سی نے بھی لیک ہونے والے ان شواہد کو دیکھا ہے۔

اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے سابق سربراہ ڈک پاونڈ کا کہنا ہے کہ اگر تازہ مشتبہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو کسی بحران سے کم نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق لیک ہونے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 800 ایتھلیٹس یعنی فائل میں موجود ہر سات میں سے ایک ایتھیلٹ کے نمونے ڈوپنگ کے بہت قریب یا کم از کم غیر معمولی ہیں۔

کھیل کو شفاف بنانے کے لیے ڈوپنگ کی جانچ کی اہیمت پر زور دیا جاتا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکھیل کو شفاف بنانے کے لیے ڈوپنگ کی جانچ کی اہیمت پر زور دیا جاتا رہا ہے

جن ممالک کے کھلاڑی شک کے دائرے میں ہیں، ان میں روس اور كينيا کا نام سرِ فہرست ہے۔

ایک مقبول برطانوی کھلاڑی بھی ان سات برطانوی کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو شک کے دائرے میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 میں لندن میں ہونے والے اولمپکس کھیلوں میں دس تمغے ان کھلاڑیوں نے جیتے جن کے ٹیسٹ نتائج مشتبہ تھے۔

بہت سے فائنل مقابلوں میں پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے کھلاڑیوں میں سے کم از کم ایک کے ٹیسٹ نتائج مشتبہ تھے۔

معروف برطانوی ایتھلیٹ محمد فرح اور جمائیکا کے یوسین بولٹ کے خون کے ٹیسٹ نتائج مشتبہ نہیں ہیں۔

نمونوں کی جانچ کا کام دنیا کے دو اینٹی ڈوپنگ ماہرین سائنسداں روبن پیریسوٹو اور مائیکل اشینڈن کو دیا گيا تھا۔

یہ رپورٹ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشنز کی ملکیت ہیں جسے ایک شخص نے افشا کر دیا۔

آئی اے اے ایف کا کہنا ہے کہ وہ ڈوپنگ روکنے کے لیے نئی نئی تراکیب کے استعمال میں پیش پیش رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآئی اے اے ایف کا کہنا ہے کہ وہ ڈوپنگ روکنے کے لیے نئی نئی تراکیب کے استعمال میں پیش پیش رہی ہے

اگرچہ یہ شواہد ڈوپنگ کا ثبوت نہیں ہیں تاہم اس انکشاف سے سنگین نوعیت کے سوالات اٹھیں گے کہ عالمی تنظیم اسی ماہ بیجنگ میں شروع ہونے والے عالمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ سے قبل دھوکہ دہی اور فریب کو روکنے کے لیے کتنا کچھ کر رہی ہے؟

آئی اے اے ایف نے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کی درستگی پر سوال نہیں اٹھائے ہیں لیکن تنظیم نے سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ ’آئي اے اے ایف ہمیشہ ڈوپنگ کو روکنے کے لیے نئی اور اعلیٰ درجے کی تراکیب کے استعمال کرنے میں پیش پیش رہی ہے۔‘