’سائیکلنگ میں اب بھی ممنوعہ ادویات عام ہیں‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق چیمپیئن لینس آرمسٹرانگ کے ساتھ بہت نرم برتاؤ کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق چیمپیئن لینس آرمسٹرانگ کے ساتھ بہت نرم برتاؤ کیا گیا

ایک جامع رپورٹ کے مطابق سائیکلنگ کے کھیل میں اب بھی بڑے پیمانے پر ممنوعہ ادویات کا استعمال ہوتا ہے۔

سائیکلنگ انڈی پینڈنٹ ریفورم کمیشن (Circ) نامی اس رپورٹ پر گذشتہ سال جنوری میں کام شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں کس طرح سائیکلنگ کا کھیل منشیات کی لت کا بری طرح شکار ہو گیا۔

رپورٹ میں اس کھیل کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دراصل سائیکلنگ کی عالمی تنظیم یو سی آئی دھوکہ بازی کرنے والوں کو پکڑنا نہیں چاہتی اور اس نے اپنی آنکھ بند کر رکھی ہے۔

رپورٹ نے یو سی آئی کے سابق صدور ہائن ویربروگن اور پیٹ میک کویڈ پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ممنوعہ ادویات کے بارے میں لاگو قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا اور سابق چیمپیئن نیل آرمسٹرانگ کے ساتھ امتیازی طور پر نرم سلوک کیا۔

اس رپورٹ کی تکمیل کے لیے 174 انسدادِ منشیات ماہرین، حکام، سائیکل سواروں اور دوسرے افراد سے رابطہ کیا گیا۔ چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:

ایک ’ممتاز سائیکلنگ پروفیشنل‘ نے بتایا کہ 90 فیصد سائیکلسٹ اب بھی ممنوعہ ادویات استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ایک اور نے کہا کہ 20 فیصد ایسا کرتے ہیں۔

  • سائیکلسٹ بہت کم مقدار میں، مگر بار بار ادویات استعمال کرتے ہیں، جسے پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
  • وزن کم کرنے والی ادویات، تجرباتی ادویات اور طاقتور درد کش ادویات کا استعمال عام ہے، جس سے ہاضمے کی شکایت اور ڈیپریشن جیسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہے۔
  • اس کے علاوہ دوسری اقسام کی دھوکہ دہی بھی عام ہوتی جا رہی ہے، جس میں سائیکل اور دوسرے ساز و سامان کی دھوکہ دہی شامل ہے۔