آرمسٹرونگ مقدمہ ہارنے پر اب ایک کروڑ ڈالر ادا کریں گے

یو ایس اے ڈی اے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ لانس آرمسٹرانگ اور ان کی ٹیم نے ڈوپنگ کا ایسا ’جدید، پیشہ ورانہ اور کامیاب‘ طریقہ اپنایا جو اب تک کھیل کی دنیا میں دیکھنے کو نہیں ملا ہے

،تصویر کا ذریعہHarpo Studios

،تصویر کا کیپشنیو ایس اے ڈی اے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ لانس آرمسٹرانگ اور ان کی ٹیم نے ڈوپنگ کا ایسا ’جدید، پیشہ ورانہ اور کامیاب‘ طریقہ اپنایا جو اب تک کھیل کی دنیا میں دیکھنے کو نہیں ملا ہے

سابق سائیکلسٹ لانس آرمسٹرونگ کو امریکی انشورنس کمپنی ’ایس سی اے پروموشنز‘ کے خلاف ایک مقدمہ ہارنے کے بعد اسے ایک کروڑ ڈالر واپس کرنا ہوں گے۔

انشورنس کمپنی ایس سی اے پرموشنز نے سال 2006 میں آرمسٹرونگ کو سات ٹور ڈی فرانس اعزازات جیتنے پر 75 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

آرمسٹرونگ نے اب ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت میں اس سے پہلے غلط بیانی کرتے رہے۔

ایس سی اے پرموشنز کے ایک بیان کے مطابق’رقم لازمی طور پر کمپنی کو ہی ملنی چاہیے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی فرد واحد کی جانب سے واپس کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔‘

کمپنی کے مطابق عدالت کے تحریری فیصلے آرمسٹرونگ کو فراڈ، سازش اور جان بوجھ کر جھوٹ بولنے پر سزا دی گئی ہے۔

اس سے پہلے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے کہا تھا کہ امریکی سائیکلسٹ آرمسٹرونگ کمپنی کے ساتھ دس لاکھ پاؤنڈ ہرجانے سے متعلق معاہدہ کرنے پر رضا مند ہو گئے تھے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے سنہ 2004 میں لانس آرمسٹرونگ پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کا الزام لگایا تھا تو انھوں نے ہتکِ عزت کا مقدمہ کر کے اخبار سے تین لاکھ پاؤنڈ وصول کیے تھے۔

امریکی حکام نےسنہ 2012 لانس آرمسٹرونگ کو ممنوعہ ادویات کے استعمال کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان پر سائیکلنگ میں حصہ لینے کی تاحیات پابندی بھی لگا دی تھی جس کے بعد برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے آرمسٹرونگ سے تین لاکھ پاؤنڈ کے علاوہ اس کیس پر اٹھنے والے اخراجات بمعہ سود واپس ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے چیف سپورٹس رپورٹر نے پہلی بار سنہ 1999 میں ٹور دی فرانس کا اعزاز جیتنے کے بعد آرمسٹرونگ کی کارکردگی پر سوال اٹھایا تھا۔

کھیلوں میں ممنوعہ ادویات سے متعلق امریکہ کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ’یو ایس اے ڈی اے‘ یعنی یوساڈا نے گذشتہ سال لانس آرمسٹرونگ کو ممنوعہ ادویات کے استعمال کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے سات ٹور ڈی فرانس اعزازات منسوخ کر دیے تھے اور ان پر سائیکلنگ میں حصہ لینے کی تاحیات پابندی بھی لگا دی تھی۔

یو ایس اے ڈی اے نے اپنی ایک ہزار صحفوں پر مشتمل رپورٹ میں کہا تھا کہ لانس آرمسٹرونگ اور ان کی ٹیم نے ڈوپنگ کا ایسا ’جدید، پیشہ ورانہ اور کامیاب‘ طریقہ اپنایا جو اب تک کھیل کی دنیا میں دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 41 سالہ آرمسٹرونگ ڈوپنگ کے معاملے میں مسلسل دھوکہ دہی میں ملوث رہے ہیں۔

آرمسٹرونگ نے رواں برس جنوری میں امریکی ٹی وی کے مقبول پروگرام اوپرا ونفری شو میں انٹرویو دیتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔