شعیب کی ڈبل سنچری کے بعد انگلش اوپنرز کی پراعتماد بلے بازی

،تصویر کا ذریعہGetty
ابوظہبی میں کھیلے جانے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان کی جانب سے اننگز ڈیکلیئر کیے جانے کے بعد انگلش اوپنرز نے پراعتماد انداز میں بلے بازی کی ہے۔
انگلینڈ کی جانب سے الیسٹر کک اور معین علی میدان میں اترے اور کھیل کے اختتام تک بغیر کسی نقصان کے 56 رن بنا لیے۔
<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90168" platform="highweb"/></link>
جب کھیل ختم ہوا تو انگلینڈ کو پاکستان کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 467 رنز درکار تھے۔
اس سے قبل پاکستان نے اپنے بلے بازوں نے عمدہ کارکردگی کی بدولت پہلی اننگز آٹھ وکٹوں پر 523 رنز بنا کر ڈیکلیئر کر دی۔
بدھ کو پاکستانی اننگز کی خاص بات شعیب ملک کی ڈبل سنچری اور اسد شفیق کی سنچری رہی۔
ٹیسٹ ٹیم میں پانچ برس بعد واپس آنے والے شعیب ملک کے کریئر کی یہ پہلی ڈبل سنچری تھی اور وہ 245 رنز کی اننگز کھیل کر بین سٹوکس کی گیند پر کیچ ہوئے۔
شعیب ملک اس میدان پر پاکستان کے لیے ڈبل سنچری بنانے والے تیسرے بلے باز ہیں۔ اس سے قبل توفیق عمر اور یونس خان یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بدھ کو پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 286 رنز سے کھیل کا آغاز کیا تو ان دونوں بلے بازوں نے پہلے سیشن میں مہمان ٹیم کے بولروں کو مزید کوئی وکٹ نہ لینے دی۔
شعیب اور اسد شفیق کے درمیان پانچویں وکٹ کے لیے 248 رنز کی شراکت ہوئی جس کا خاتمہ وڈ نے اسد کو 107 کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو کر کے کیا۔
اسد شفیق ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی آٹھویں سنچری مکمل کر کے پویلین لوٹے۔
انگلینڈ کی جانب سے بین سٹوکس نے چار، جیمز اینڈرسن نے دو جبکہ وڈ اور سٹوئرٹ براڈ نے ایک ایک وکٹ لی۔
اس میچ کے پہلے دن کے کھیل کی سب سے خاص باتیونس خان کا ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ تھی۔
یونس نے معین علی کو چھکا لگا کر جاوید میانداد کا 8832 رنز کا ریکارڈ توڑا۔
پاکستانی ٹیم کا متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ متاثر کن رہا ہے اور وہ یہاں کھیلی گئی سات میں سے کوئی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے۔ اس نے تین ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں اور چار برابر رہی ہیں۔



