پاکستان اور انگلینڈ کا سخت امتحان

،تصویر کا ذریعہPA
ایشیز کی فاتح انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم آج سے ایک مختلف اور سخت ترین امتحان سے گزرنے والی ہے اور یہ امتحان ہے متحدہ عرب امارات کی سپن وکٹوں اور سخت گرمی میں پاکستان سے مقابلہ۔
تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں آج سے شروع ہو رہا ہے۔
پاکستانی ٹیم کا متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ متاثر کن رہا ہے اور وہ یہاں کھیلی گئی سات میں سے کوئی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے۔ اس نے تین ٹیسٹ سیریز جیتی جبکہ چار برابر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستانی ٹیم کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں جیتی گئی تین سیریز میں سنہ 2012 میں انگلینڈ کے خلاف سیریز بھی شامل ہے جس میں اس نے تینوں میچ جیت کر کلین سوئپ کیا تھا۔
اس سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کے لیے یہ وائٹ واش اس لیے بھی تکلیف دہ تھا کہ وہ لگاتار چھ ٹیسٹ سیریز جیت کر پاکستان کے مقابلے پر آئی تھی لیکن سعید اجمل اور عبدالرحمن کی شاندار بولنگ نے اسے آؤٹ کلاس کردیا تھا۔
اگرچہ اس بار انگلینڈ کی فتوحات کا تسلسل تین سال پہلے جیسا قابل ذکر نہیں ہے لیکن عالمی کپ کے بعد نوجوان کرکٹرز کے ٹیم میں آنے سے اس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کا ثبوت ایشیز کی جیت ہے۔
کپتان الیسٹر کک، نائب کپتان جو روٹ، ای این بیل اور جانی بیرسٹو انگلینڈ کی امیدوں کا مرکز ہیں البتہ اس کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ الیسٹر کک کے اوپننگ پارٹنر کی تلاش ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اینڈریو اسٹراس کے جانے کے بعد سے انگلینڈ کی ٹیم متعدد اوپنرز کو آزما چکی ہے اور اب پاکستان کے خلاف اس نے آف سپنر معین علی کو اوپنر کے طور پر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے جو عام طور پر آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہیں۔
انگلینڈ کا سپن سکواڈ معین علی کے علاوہ عادل رشید اور سمیت پٹیل پر مشتمل ہے البتہ اس کا پیس اٹیک تجربہ کار ہے جس میں اینڈرسن 413 اور اسٹورٹ براڈ 308 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ سٹیون فن کی وکٹوں کی تعداد 102 ہے۔
پاکستانی ٹیم کو اظہر علی کے بعد لیگ سپنر یاسرشاہ کے ان فٹ ہونے کا صدمہ سہنا پڑا ہے۔
پاکستان نے ان کے متبادل کے طور پر لیفٹ آرم سپنر ظفرگوہر کو طلب کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یاسر شاہ مصباح الحق کو آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جتوانے میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی ٹیم آخری چار میں سے تین ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہے جبکہ ایک ڈرا رہی ہے۔
پاکستانی ٹیم ایک بڑے سکور کے لیے ایک بار پھر یونس خان، مصباح الحق، اسد شفیق اور سرفراز احمد سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔
اظہرعلی کے ان فٹ ہونے کے سبب شعیب ملک کو ٹیم میں جگہ مل گئی ہے جو تیسرے نمبر پر بیٹنگ کریں گے۔
ابوظہبی میں پاکستانی ٹیم نے سات ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے چار جیتے ہیں اور تین برابر رہے ہیں۔



