پاکستان اور انگینڈ کرکٹ مقابلے، تنازعات اور تلخیاں

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی گئی کرکٹ سیریز تنازعات سے خالی نہیں رہی ہیں اور ان میں سے بعض بین الاقوامی کرکٹ کے چند بڑے تنازعات میں شامل ہیں۔

2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل

تینوں کھلاڑیوں کو لندن کی ایک عدالت نے سزا سنائی تھی

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنتینوں کھلاڑیوں کو لندن کی ایک عدالت نے سزا سنائی تھی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے موقع پر سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے مرکزی کردار سابق کپتان <link type="page"><caption> سلمان بٹ اور فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد عامر تھے۔</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/02/110205_spot_fixing_decison_zs" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> سپاٹ فکسنگ کب کیا ہوا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/02/110205_spot_fixing_timeline_update_zs" platform="highweb"/></link>

ان تینوں کے بارے میں برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے بک میکر مظہر مجید کے انکشافات کی روشنی میں یہ خبر دی کہ لارڈز ٹیسٹ میں مخصوص اوورز میں یہ بولرز نوبال کرائیں گے جس کا انھوں نے معاوضہ وصول کیا ہے اور ہوا بھی وہی جو کہا گیا تھا۔

برطانوی پولیس نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران ٹیم کے ہوٹل پر چھاپہ مارا۔ کھلاڑیوں کے کمروں کی تلاشی لی اور کچھ کرنسی بھی برآمد کی۔

بعدازاں آئی سی سی نے تینوں کھلاڑیوں پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی ساتھ ہی لندن کی عدالت نے بھی تینوں کھلاڑیوں اور مظہرمجید کو سزائیں سنائیں اور انھیں جیل جانا پڑا۔

2006 میں اوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کا کھیلنے سے انکار

انضمام الحق ٹیم کو میدان سے واپس لے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنانضمام الحق ٹیم کو میدان سے واپس لے گئے تھے

پاکستانی کرکٹ ٹیم پر اوول ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے پنالٹی کے پانچ رنز دے دیے۔

پاکستانی کپتان انضمام الحق کا مؤقف تھا کہ ڈیرل ہیئر نے کسی انتباہ کے بغیر یہ قدم اٹھایا ہے چنانچہ پاکستانی ٹیم نے چائے کے وقفے کے بعد میچ جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور جب اسے میچ کھیلنے کے لیے آمادہ کیا گیا تو امپائر ڈیرل ہیئر کھیل جاری رکھنے کے لیے تیار نہ تھے اور انھوں نے میچ ختم کرتے ہوئے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔

یہ تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا جس کا نتیجہ اس انداز سے سامنے آیا کہ کسی ٹیم کے کھیلنے سے انکار پر حریف ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا ہو۔

شکور رانا اور مائیک گیٹنگ کا جھگڑا 1987 ء ۔

شکور رانا اور مائک گیٹنگ کے درمیان تلخی کی وجہ سے یہ سیریز کرکٹ کے حلقوں میں آج بھی زیر بحث آتی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشکور رانا اور مائک گیٹنگ کے درمیان تلخی کی وجہ سے یہ سیریز کرکٹ کے حلقوں میں آج بھی زیر بحث آتی ہے

امپائر شکور رانا اور انگلینڈ کے کپتان مائیک گیٹنگ کے درمیان فیصل آباد ٹیسٹ میں یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب شکور رانا نے گیٹنگ پر اعتراض کیا کہ وہ بولر کے گیند کرنے کے دوران اپنے فیلڈر کی پوزیشن تبدیل کرا رہے ہیں۔

دونوں کے درمیان میدان میں تکرار اس حد تک بڑھ گئی کہ امپائر شکور رانا نے گیٹنگ سے معافی کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ایک پورا دن کھیل نہ ہو سکا اور مائیک گیٹنگ کو تحریری طور پر معافی مانگنی پڑی۔

1992میں بال ٹمپرنگ کا الزام

آنجہانی باب ولمر بال اسوقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنآنجہانی باب ولمر بال اسوقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے

پاکستانی فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقاریونس کا طوطی سرچڑھ کر بولا اور انھوں نے اپنی ریورس سوئنگ سے انگلش بیٹسمینوں کو آؤٹ کلاس کردیا لیکن پاکستانی

بولرز پر مبینہ طور پر گیند کے ساتھ گڑبڑ کر کے وکٹیں حاصل کرنے کا الزام عائد کیاگیا۔

انگلینڈ کے کرکٹر ایلن لیمب نے پاکستانی ٹیم پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا جس پر سرفراز نواز نے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تاہم بعد میں انھوں نےیہ مقدمہ واپس لے لیا۔

ایلن لیمب اور ای این بوتھم نے عمران خان کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا تھا لیکن دونوں یہ مقدمہ ہارگئے۔

2012 میں سعید اجمل کھٹکنے لگے

سعید اجمل کے بالنگ ایکشن پر دو مرتبہ اعتراض ہوا

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنسعید اجمل کے بالنگ ایکشن پر دو مرتبہ اعتراض ہوا

متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سعید اجمل کی 24 وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کے کلین سوئپ میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن سیریز کے آغاز سے ہی انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر باب ولس نے ان کی مخصوص گیند ’دوسرا‘ پر اعتراض کر دیا اور سیریز کے اختتام تک ان کا بولنگ ایکشن موضوع بحث بن چکا تھا۔

1983:ساس کو پاکستان بھیج دو

گیٹنگ اور بوتھم پاکستان کے خلاف 1987 کی سیریز میں اول کرکٹ گراونڈ پر پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں

،تصویر کا ذریعہadren murel

،تصویر کا کیپشنگیٹنگ اور بوتھم پاکستان کے خلاف 1987 کی سیریز میں اول کرکٹ گراونڈ پر پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں

ای این بوتھم کو پاکستان کا دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا لیکن انھوں نے جاتے ہی پاکستان کے بارے میں یہ متنازع بیان دے ڈالا کہ پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ اپنی ساس کو ایک ماہ کے لیے بھیج سکتے ہیں۔

اس طنزیہ بیان پر بوتھم کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کیا واقعی پچ تبدیل ہوگئی 1974ء ۔

سنہ 1974 میں پاکستان ٹیم کی کپتانی مشاق محمد کر رہے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسنہ 1974 میں پاکستان ٹیم کی کپتانی مشاق محمد کر رہے تھے

پاکستانی ٹیم کے منیجر عمرقریشی نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران الزام عائد کیا کہ پچ اس حالت میں نہیں تھی جسے وہ تیسرے دن چھوڑ کر گئے تھے۔ اس زمانے میں پچ کو ڈھانپا نہیں جاتا تھا۔ اس وکٹ پر ڈیرک انڈرووڈ نے پاکستان کی آٹھ وکٹیں حاصل کر ڈالی تھیں تاہم پاکستانی ٹیم میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

2000 میں اندھیرے میں میچ کا اختتام

ناصر حسین اس میچ میں کپتانی کر رہے تھے

،تصویر کا ذریعہlaurence griffithis

،تصویر کا کیپشنناصر حسین اس میچ میں کپتانی کر رہے تھے

کراچی ٹیسٹ میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کرکے سیریز بھی اپنے نام کی۔ نیشنل سٹیڈیم میں پاکستان کو پہلی بار شکست ہوئی۔

کپتان معین خان کی فیلڈ میں بار بار کی تبدیلیاں امپائر سٹیو بکنر کو وقت ضائع کرنے کی کوششیں معلوم ہوئیں اور وہ کم ہوتی ہوئی روشنی میں بھی میچ جاری رکھنے پر مصر دکھائی دیے اور جب انگلینڈ نے میچ جیتا تو تقریباً اندھیرا ہو چلا تھا۔

2005 میں آفریدی وکٹ کوخراب کرنے لگ گئے

شاہد آفریدی اس میچ میں کافی کرگر ثابت ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی اس میچ میں کافی کرگر ثابت ہوئے تھے

فیصل آباد ٹیسٹ کے دوران اقبال سٹیڈیم میں شاہد آفریدی یہ جان کر کہ کوئی انھیں دیکھ نہیں رہا وکٹ پر رقص کرنے لگ گئے جس کا مقصد اسے خراب کرنا تھا۔ وہ کیمرے کی زد میں آگئے جس کےبعد میچ ریفری روشن مہانامہ نے ان پر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کی پابندی عائد کر دی۔